کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ہمارے علاقے میں ایک شخص ہے، جو کہ اذانِ فجر کے بعد بلند آواز سے لوگوں کو بیدار کرتا ہے، اور نمازِ فجر کے ادا کرنے کی تاکید کرتا ہے، کیا مذکور شخص کا یہ عمل درست ہے؟ ائمہ حضرات احنافؒ میں سے حضرت امام ابویوسفؒ نے تثویب کی اجازت مرحمت فرمائی تھی ، بوجہ امورِ قضا اور امورِ شرع کی ادائیگی کی مصروفیت کی وجہ سے، کیا فی الحال اس کا جواب باقی ہے؟ اور اب فتویٰ ائمہ ثلاثہ احنافؒ میں سے کس امام کے قول پر ہے؟ بینوا توجروا!
اذان اور نماز کے درمیان لوگوں کو نماز کیلئے بلانے، اور جمع کرنے کو مشائخ اور ائمہ حضرات نے بضرورت جائز اورمستحسن قرار دیا ہے، جس کو اصطلاحِ فقہاء میں تثویب کہتے ہیں، کیونکہ مسلمانوں میں روزِ افزوں غفلت اس کی مقتضی ہے کہ، بار بار تنبیہ کی جائے، مگر اس تنبیہ کیلئے کوئی خاص طریقۂ کار مقرر نہیں فرمایا گیا، بلکہ ہر زمانے کے لوگوں پر چھوڑا گیا ہے کہ، جو چیز لوگوں میں نماز کیلئے بلانے میں متعارف ہوجائے اور شرعاً مناسب بھی ہو، تو اسے اختیار کیا جاسکتا ہے، مگر آج کل جہالت کے عام ہونے اور دین سے دوری کی بناء پر بعض لوگ تو اتنے بے باک ہوچکے ہیں کہ، اس طرح نماز کیلئے جگانے والوں کو گالیان بکنے لگتے ہیں، اور بعض اوقات تو نعوذباﷲ خدا اور رسول اور نماز کی شان میں ایسے ایسے کلمات کہہ دیتے ہیں، جو کفر تک پہنچادیتے ہیں ،جس سے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ، ایسا نہ ہو کہ کسی درجہ میں ان کے کفر کی ذمہ داری ان جگانے والے احباب پر نہ آجائے کہ ، تبلیغ و تذکیر میں حکمت عملی کی رعایت میں کوتاہی کی، اور اس وجہ سے ایک مسلمان جو پہلے زیادہ سے زیادہ فاسق تھا، اور اب وہ کافر ہوگیا ہے ، اسی طرح بعض گھروں میں مریض ہوتے ہیں، جنہیں ہر قسم کی اونچی آواز سے تکلیف ہوتی ہے، اور بلاوجہ ایذاء مسلم قطعاً ناجائز ہے، نیز اگر آواز دینے والا مخلص نہ ہو، تو اس سے اپنے متعلق تکبر و ترفع اور دوسروں کے متعلق نفرت وحقارت کے جذبات پیدا ہونے کیلئے، یہ عمل قوی ذریعہ بھی بن سکتا ہے، اس تفصیل کے بعد واضح ہو کہ اگرچہ امام ابو یوسفؒ نے قاضی اور مفتی وغیرہ کیلئے تثویب کو جائز قرار دیا ہے ،اور اب بھی اس کے جواز میں کوئی شک نہیں، مگر ان عوارض کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، جن کا ابھی ذکر ہوا، لہٰذا شخصِ مذکور کو چاہئے کہ، مذکور طریقہ پر دوام سے اگر فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو ،تو اس سے احتراز کرے ،اور اگر مسجد کی طرف نماز کیلئے آتے ہوئے دوسروں کو بھی نماز کیلئے آواز بلند دے دے ،اور اس میں کسی فساد وغیرہ کا اندیشہ نہ ہو، تو بلاشبہ یہ جائز اور مستحسن امر ہے۔
ففی الدر: ویثوب بین الاذان والاقامۃ فی الکل للکل بما تعارفوہ اھ
و فی الشامیۃ تحت قولہ: فی الکل أی کل الصلوٰت لظہور التوانی فی الامور الدینیۃ،قال فی العنایۃ: احدث المتأخرون التثویب بین الاذان والاقامۃ علی حسب ما تعارفوہ فی جمیع الصلوٰت سوی المغرب مع إبقاء الاول یعنی الاصل وہو تثویب الفجر، وما رآہ المسلمون حسنًا فہو عند اﷲ حسن اھـ (389/1)واﷲ اعلم!