کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس بارے میں کہ نابالغ لڑکا جس کی عمر تقریباً ۱۲ سال ہے نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے پہلی صف میں کھڑا ہوسکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ پہلی صف میں جگہ خالی ہو دوسری صف میں نمازی نہ ہوں اور لڑکا بے ریش ہو؟
اگر پہلی صف نامکمل ہو اور مزید نمازیوں کے آنے کی امید بھی نہ ہو ، تو اس صورت میں اگر نابالغ لڑکا پہلی صف میں کھڑا ہوکر نماز ادا کرلے، تو نماز بلاکراہت جائز اور درست ہوگی، اور اگر مزید نمازیوں کے آنے کی امید ہو تو چھوٹے بچوں اور نابالغ لڑکوں کا دوسری صف میں کھڑا ہونا بہتر ہے، تاہم اس کے باوجود بھی اگر وہ بڑوں کی صف میں کھڑے ہوجائیں تو اس سے دوسروں کی نماز پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔
کما فی البحر الرائق: ویقتضی أیضا ان الصبی الواحد لا یکون منفردا عن صف الرجال بل یدخل فی صفہم الخ(ج۱، ص۳۵۳)۔
و فی الدر المختار: (ویصف) الرجال ظاہرہ یعم العبد ثم الصبیان ظاہرہ تعدد ہم فلو واحدا دخل الصف الخ(ج۱، ص۵۷۱)۔