احکام نماز

عورت اور مرد کے سجدے میں فرق پر تفصیلی فتوی

فتوی نمبر :
59192
| تاریخ :
2000-09-08
عبادات / نماز / احکام نماز

عورت اور مرد کے سجدے میں فرق پر تفصیلی فتوی

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ عورت اور مرد کے سجدے کے طریقہ میں کیا فرق ہے؟ گزشتہ برسوں میں حج اور عمرہ پر جانے کا موقع ہوا ہم یعنی پاکستانی خواتین جس طرح سجدہ کرتی ہیں کہنی زمین پر بچھا کر سمیٹ کر اور رانوں کا اگلا حصہ پیٹ سے ملاکر سجدہ کرتی ہیں تو وہاں پر کچھ خواتین نے ٹوکا کہ اس طرح سجدہ کرنے کی ممانعت ہے حدیث شریف بتاتی ہیں کہ اس طرح بیٹھنا کتے کی خصلت ہے اس لئے منع کیا گیاہے۔
بخاری شریف میں سجدہ کا جو طریقہ بتایا گیا ہے وہ طریقہ وہ ہے جس طرح مرد کرتے ہیں، اس میں عورت اس طرح کرے اور مرد اس طرح کرے کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عورتوں کی نماز کا طریقہ بالکل مردوں کی نماز کی طرح ہونا صراحۃً ثابت نہیں بلکہ عورتوں کی نماز کا طریقہ مردوں کے طریقۂ نماز سے جدا ہونا بہت سی احادیث اور آثارِ صحابہ و تابعین سے ثابت ہے اور امت کے چاروں آئمہ فقہ امام اعظم ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ اس پر متفق ہیں اور وہ طریقہ یہ ہے کہ عورتوں کے طریقۂ نماز میں زیادہ سے زیادہ پردے کا لحاظ رکھتے ہوئے جسم سمیٹ کر ایک دوسرے عضو سے ملانے کا حکم ہے اور یہ طریقہ حضور ﷺ کے زمانۂ مبارکہ سے آج تک امت میں متفق علیہ اور عملاً متواترچلا آ رہا ہے، آج تک کسی صحابی، تابعی، تبع تابعی یا دیگر فقہاء امت میں سے کسی کو ایسا فتویٰ نظر نہیں آیا جس میں عورتوںکی نماز کو مردوں کی نماز کے مطابق قرار دیا ہو، لہٰذا عورتوں کو چاہئے کہ انضمام (اکھٹی ہوکر) اور انخفاض (سمٹ کر اور چمٹ کر) ہونے کی حالت میں نماز ادا کریں تاکہ ان کا ستر بدستور باقی رہے، اس کے بعد واضح ہو کہ سوال میں بخاری شریف کی کسی حدیث کا حوالہ نہیں دیا گیا، اگر کسی حدیث کا حوالہ دیا جائے تو پھر اس پر بھی کلام کیا جاسکتا ہے، تاہم ذیل میں تفصیل بھی ملاحظہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

فی البیہقی: عن علیؓ قال اذا سجدت المرأۃ فلتحفز ولتضم فخذیہا۔ اھـ
(ج:۲، ص:۲۲۳)
ترجمہ: حضرت علیؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب عورت سجدہ کرے تو سرین کے بل بیٹھے اور اپنی رانوں کو ملالے۔
عن ابن عباسؓ انہ سئل عن صلاۃ المرأۃ فقال تجمع وتحتفز۔ اھـ
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے عورت کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ (سب اعضاء کو) ملالے اور سرین کے بل بیٹھے۔
وفی الہدایۃ: تنخفض فی سجودہا وتلزق بطنہا بفخذیہا لان ذلک استرلہا (وفی موضع اٰخر) وإن کانت امرأۃ جلست علی إلیتیہا السیریٰ واخجرت رجلیہا من الجانب الایمن لانہ استرلہا۔ اھـ (ج:۱، ص:۱۱۱) وﷲ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59192کی تصدیق کریں
0     1189
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات