احکام نماز

صلوٰۃ وتر کی رکعات کی تعداد کیا ہے؟نیز غائبانہ نماز جنازہ کا کیا حکم ہے ؟

فتوی نمبر :
59218
| تاریخ :
2000-08-05
عبادات / نماز / احکام نماز

صلوٰۃ وتر کی رکعات کی تعداد کیا ہے؟نیز غائبانہ نماز جنازہ کا کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
(۱) صلوٰۃ وتر کی رکعات کی تعداد کیا ہے، احناف کے ہاں تین رکعات ہیں، تو احادیث مبارکہ کی روشنی میں واضح کیجئے ،اور اس امر کی واضح تشریح مطلوب ہے کہ، حضرت معاویہؓ اپنی زندگی میں ایک رکعت وتر پڑھتے رہے ،اور دوسری طرف صراحۃً یہ فرمان نبی ﷺ موجود ہے کہ، انہوں نے صلوٰۃ وتر پڑھنے سے منع فرمایا؟
(۲) نماز میں سر ڈھانپنے کی حیثیت کیا ہے؟ کیا کوئی شخص اس بات کو معمول بنالے, وہ ہمیشہ نماز میں سر کو نہ ڈھانپے، تو اس شخص کی نماز میں کوئی خلل آئے گا ؟جیسا کہ غیر مقلدین کرتے ہیں.
(۳) غائبانہ نمازِ جنازہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ جبکہ حضور ﷺ نے نجاشی کی خود غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) ائمہ احنافؒ کے نزدیک نماز وتر کی تین رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھنا واجب ،اور یہ احادیث صحیحہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مبارک عمل سے ثابت ہے، اور صورتِ مسئولہ میں جس روایت کا تذکرہ ہے، اس کو محدثین نے شاذ قرار دیا ہے، لہٰذا وہ احادیث صحیحہ کی معارض نہیں بن سکتی۔
(۲) ٹوپی پہن کر یا اور کسی کپڑے سے سر ڈھانپ کر نماز پڑھنا جائز ،اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے ثابت ہے، اور بلاوجہ سستی اور کاہلی کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے، لہٰذا ننگے سر نماز پڑھنے سے احتراز کرنا چاہیئے۔
(۳) واضح ہوکہ نماز جنازہ کے صحیح ہونے کے لئے جنازہ کا سامنے ہونا شرط ہے، اور یہ شرط غائبانہ نماز جنازہ میں نہیں پائی جاتی، لہٰذا غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں، اور سائل کا ’’نجاشی‘‘ کی نماز جنازہ سے، اس کے جوا ز پر استدلال کرنا بھی درست نہیں، اس لئے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی خصوصیت تھی، اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ، بطور معجزہ نجاشی کی میت آپ ﷺ کے سامنے کردی گئی تھی، اور آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھائی، لہٰذا سائل کو چاہئے کہ ،اس قسم کے اغلوطات میں پڑنے سے اجتناب کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی المرقاۃ: لکن الحدیث فی کون معاویة شاذًا منفردًا عن سائر الصحابة ولذا انکر علیه ویؤیدہ ما قدمنا من حکایة اجماع المسلمین اھـ (١٧٥/٣)
وفی الدر المختار: وصلاته حاسرًا اي کاشفا رأسه للتکاسل اھ
وفی رد المحتار تحت (قوله التکاسل) أی لإجل الکسل، بأن استثقل تغطیة ولم یرہا امرًا مہمًا فی الصلاۃ فترکہا لذٰلك اھ (٦٤١/١)
وفی الطحطاوی: الرابع حضورہ او حضور اکثر بدنه او نصفه مع راسه والصلاۃ علی النجاشی کانت بمشدہ کراہة له ومعجزۃ للنبی ﷺ اھ (٣١٩/١) واﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59218کی تصدیق کریں
0     561
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات