کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ :
(۱) جمعہ کی نماز کیلئے دوسری آذان کیوں دی جاتی ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟
(۲) قرآن کریم میں آتا ہے کہ" و ارکعوا و اسجدوا" اس سے ایک سجدہ ثابت ہوتا ہے اور دوسرا کہاں سے ثابت ہے؟
(۳) نمازِ جنازہ میں استغفار میں بچوں کیلئے استغفار کیوں طلب کیا جاتا ہے؟ حالانکہ بچے گناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
(۱) حضور اکرم ﷺ کے زمانۂ مبارکہ میں نمازِ جمعہ کیلئے فقط ایک ہی آزان دی جاتی تھی اور اس سے دو مقصد متعلق ہوتے تھے، ایک یہ کہ غیر حاضرین کو اعلام ،کہ بیع وشراء وغیرہ ترک کرکے فوراً مسجد میں آجائیں، اور دوسرا یہ کہ اعلامِ حاضرینِ مسجد ،کہ دوسری عبادات وغیرہ کو موقوف کرکے استماعِ خطبہ کیلئے متوجہ ہوں کہ حدیث "اذا خرج الامام فلا صلاۃ و لا کلام" کا منشاء یہی ہے، چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت تک یہی طریقہ رائج تھا ،پھر آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہی مدینہ کی آبادی وسیع ہوگئی اور یہ آذان اعلام کے لئے کافی نہ ہوئی تو آپؓ نے ایک اونچے مقام پر اس آذان سے پہلے ایک اور آذان کہلوائی ، چونکہ اس اذان کی زیادتی صحابہ کرام کی موجودگی میں ہوئی لہٰذا اس آذانِ اوّل پر اجماع ہوگیا، اور آپ ﷺ کے فرمان ’’علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین‘‘ کے تحت یہ بھی سنت ہوگئی اور جو احکامِ خطبہ سے متعلق تھے اکثر اس سے متعلق ہوگئے اعلامِ عام وغیرہ جو غیر حاضرین کیلئے تھا وہ اس سے حاصل ہوگیا اور اس دوسری آذان سے متعلق مقصدِ ثانی رہا یعنی اعلامِ حاضرینِ مسجد ،کہ دوسری عبادات وغیرہ موقوف کرکے استماعِ خطبہ کے لئے متوجہ ہوجائیں۔
(۲) قرآن کریم میں عبادت کے اصول اور احکامات بیان کئے گئے ہیں اور احادیث قرآن کریم کی تفسیر ہیں اور احادیثِ مبارکہ میں دو سجدوں کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا یہ ثابت بالسنۃ المتوترہ ہوا، نیز اس سے مقصود شیطان کو ذلیل وخوار کرنا اور جلانا ہے کہ اس نے ایک سجدہ سے انکار کیا تھا اور ہم ہر رکعت میں دوسجدے کرتے ہیں۔
(۳) بڑے آدمیوں اور بچوں کے نمازِ جنازہ کی دعاؤں میں فرق ہے، بالغین کی نمازِ جنازہ میں استغفار کی جاتی ہے جبکہ بچوں کی نمازِ جنازہ میں ان کے سفارشی بننے کی دعا کی جاتی ہے استغفار نہیں کی جاتی۔
وفی الدر المختار: (ہو) لغۃ الاعلام وشرعًا (اعلام مخصوص) لم یقل بدخول الوقت لیعم الفائتۃ وبین یدی الخطبیب۔ اھـ (ج۱، ص۳۸۳)۔
وفی الدر المختار: ومنہا السجود (الٰی قولہٖ) وتکرارہ تعبد ثابت بالسنۃ کعدد الرّکعات۔ اھـ وقال الشامی تحت:(قوله وتكراره تعبد) أي تكرار السجود أمر تعبدي: أي لم يعقل معناه على قول أكثر المشايخ تحقيقا للابتلاء، وقيل ثنى ترغيما للشيطان حيث لم يسجد مرة فنحن نسجد مرتين، وتمامه في البحر.وقال الشامی تحت:(قوله ثابت بالسنة) أي وبالإجماع بحر، وهذا لأن الأمر بالسجود في الآية لا يدل على تكراره.(ج۱، ص۴۴۷)۔
وفی الدر المختار: ولا یستغفر فیہا لصبیٍّ ومجنون ومعتوہ لعدم تکلیفہم بل یقول: الہم اجعلہ لنا فرطًا الخ۔ (ج۲، ص۲۱۵)۔