احکام نماز

معذور آدمی جس کا وضو ٹھہر نہ سکے تو کیا اس کیلئے نماز قضا کرنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
59244
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

معذور آدمی جس کا وضو ٹھہر نہ سکے تو کیا اس کیلئے نماز قضا کرنا جائز ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ مجھے گیس کا عارضہ ہے اور ریح بندی نہیں ہوتی، اور میں نے انگریزی اور یونانی ہر قسم کی ادویات استعمال کی ہیں لیکن کچھ فرق نہیں آیا اور خاص کر جب میں وضو کرتا ہوں اور نما ز کیلئے کھڑا ہوتا ہوں تو گیس کا مرض شروع ہوجاتا ہے اور روکنا مشکل ہوجاتا ہے، میں نے یوسف لدھیانوی صاحب کو بھی خط بھیجا تھا تو انہوں نے عرض کیا تھا کہ آپ ایک وقت کی نماز اس حالت میں پڑھ سکتے ہیں تو میرا عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ریح بندی کبھی زیادہ تنگ کرتی ہے اور کبھی بالکل معلوم بھی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے میں بہت وہم کا شکار ہوں اور اگر فجر کی نماز کے بعد گیس خارج نہ ہوئی ہو تو میں قرآن شریف کی تلاوت بھی فجر کے وضو سے کرلیتا ہوں اور کبھی فجر کی قضا سنت بھی فجر کے وضو سے پڑھ لیتا ہوں، آیا میرا یہ عمل صحیح ہے یا نہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ میں اپنے دفتر میں جہاں کام کرتا ہوں جب امام صاحب نہیں آتے تو نماز بھی پڑھادیتا ہوں تو آیا جو نمازیں میں نے پڑھائی ہیں وہ ہوگئیں یا نہیں؟ اور میں اب نماز پڑھاؤں یا نہیں جبکہ یہاں دفتر میں کمپنی کا مالک بھی حافظِ قرآن ہے لیکن وہ مجھے کہتا ہے کہ آپ نماز پڑھادیں اور ایک اور شخص بھی جماعت کراسکتا ہے ذرا تفصیل سے وضاحت کریں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر آپ کو مذکورہ بیماری نماز کا پورا ایک وقت اس طرح رہے کہ آپ کو اتنا وقت (مثلاً پانچ، سات منٹ) نہ ملے کہ وضو کرکے فرض نماز پڑھ سکیں تو آپ شرعاً معذور ہیں، ہر وقت کیلئے نیا وضو کرلیا کریں، جب تک وہ وقت رہے گا مذکورہ بیماری کی وجہ سے آپ کا وضو نہیں ٹوٹے گا، بلکہ اس وقت میں ریح کا خارج ہونا شرط نہیں بلکہ ایک، دو دفعہ بھی اس عارضہ کے پیش آنے سے آپ معذور ہی رہیں گے، ہاں اگر درمیان میں کوئی ایک وقت مسلسل اس طرح گزرجائے کہ پورے وقت میں یہ عارضہ ایک دفعہ بھی نہ آیا تو آپ شرعاً معذور نہ رہیں گے، اس کے بعد جتنی دفعہ ریح خارج ہوگی وضو ٹوٹ جائے گا ،اس وقت کے گزرنے کے بعد دوسرے وقت کیلئے نیا وضو کرنا پڑے گا، لہٰذا اگر آپ شرعاً معذور ہیں تو جو وضو آپ صبح کی نماز کیلئے کریں گے صبح کا وقت ختم ہوتے ہی یعنی سورج کے طلوع ہوتے ہی وضو بھی ٹوٹ جائے گا، اس لئے صبح کی نماز کے وضو سے آپ کو اشراق کی نماز یا دیگر نماز و عبادات کرنا شرعاً جائز نہیں،
اور جو نمازیں آپ پہلے پڑھاچکے ہیں، اگر اس حالت میں پڑھائی ہوں کہ آپ شرعاً معذور تھے تب تو مقتدیوں کی وہ تمام نمازیں ادا نہیں ہوئیں، وہ واجب الاعادہ ہیں، اور اگر اس حالت میں پڑھائی ہوں کہ آپ شرعاً معذور نہیں تھے اور کامل طہارت کے ساتھ پڑھائی تھیں پھر واجب الاعادہ نہیں، بلکہ وہ نمازیں ادا ہوگئی ہیں، اور آئندہ کیلئے جب آپ شرعاً معذور (جس کی کیفیت اوپر لکھ دی گئی ہے) ہوں تو آپ ہرگز نماز نہ پڑھائیں اس لئے کہ صحیح و سالم انسان کی نماز معذور کے پیچھے ادا نہیں ہوتی، لہٰذا اس حالت میں کسی دوسرے سے نماز پڑھانے کا کہہ دیا کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی تنویر الأبصار: وصاحب عذر من بہٖ سلس أو استطلاق بطن أو انفلات ریح أو استحاضۃ إن استوعب عذرہ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ ولو حکما وھذا شرط فی حق الابتداء، وفی حق البقاء کفی وجودہ فی جزء من الوقت وفی حق الزوال یشترط استیعاب الانقطاع تمام الوقت حقیقۃ وحکمہ الوضوء لکل فرض ثم یصلی بہ فیہ فرضا ونفلًا فإذا خرج الوقت بطل أی ظہر حدثہ السابق۔ اھـ(ج۱، ص۳۰۵)۔
و فی حاشیۃ الطحطاوی: فصل فی الشرائط (الی قولہ )یصحّ بہا الإقتداء، والسادس السلامۃ من أعذار فان المعذور صلاتہ ضروریۃ فلا یصحّ اقتداء غیر بہ کالرّعاف الدائم وانفلات الریح۔ اھـ(ص۱۵۶)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59244کی تصدیق کریں
0     806
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات