کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ:
(۱) تشہد میں انگلی اُٹھاکر رکھنا ہے یا نہیں رکھنا؟ (۲) اگر کوئی اُٹھانے کے بعد پھر ملاکر چھوڑدے تو کوئی قباحت تو نہیں ہے؟ شرع کے مطابق جواب سے مستفیض فرمائیں، نیز یہ بھی بتائیں کہ انگلی اُٹھانے کے بعد دوسری انگلی کے ساتھ ملاکر رکھنے میں کوئی حدیث ہے یا نہیں؟ دوسری انگلی کے ساتھ ملاکر رکھنے میں خلافِ سنت تو نہیں ہوگا؟
(۱) تشہد میں اشارہ بالسبابۃ(انگلی سے اشارہ کرنا) مستحب ہے اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ درمیان کی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بناکر ’’اشہد ان لا الہ‘‘ پر انگلی اُٹھائے اور جب ’’الا اللہ‘‘ زبان سے کہے تو انگلی کو گرادے مگر بالکلیہ نہ گرائے بلکہ قدرے جھکادے اور یہی حالت قعدہ کے اخیر تک ہونی چاہیۓ۔
(۲) یہ بھی جائز ہے تاہم مستحب طریقہ وہی ہے جو نمبر(۱) میں درج کردیا گیا ہے۔
عن عبدﷲ بن الزبیر،انہ ذکر ان النبی ﷺ کان یشیرباصبعہ اذا دعا ولایحرکھا، (الحدیث)۔
وفی حاشیۃ سنن ابی داؤد: عن الملا علی القاری: ای یرفع اصبعہ الواحدۃ الی وحدانیۃ اﷲ تعالٰی فی دعائہ ای التشہد۔
وعن مالک بن غیر الخزاعی عن ابیہ قال: رأیت النبی ﷺ واضعا ذراعہ الیمنٰی رافعا اصبعہ السبابۃ قدحناہا شیئًا٫ ای امالہا قلیلًا۔(ابوداؤد: ج۱، ص:۱۴۹)۔
قال العلامۃ الحصکفیؒ:وفی العینی عن التحفۃ: الاصح انہا مستحبۃ وفی المحیط سنۃ الخ
قال العلامۃ ابن عابدینؒ: (فی المحیط سنۃ) یرفعہا عند النفی ویضعہا عند الاثبات وہو قول ابی حنیفۃ ومحمد -رحمہماﷲ تعالٰی-کثرت بہ الاثار والاخبار فالعمل بہ اولی(الی ان قال) وصفتہا: ان یحلق من یدہ الیمنٰی عند الشہادۃ الإبھام والوسطی ویقبض البنصر والخنصر ویشیر بالمسبحۃ۔(رد المحتار: ج۱، ص۵۰۸)۔