احکام نماز

نمازِ قصر کا مسئلہ

فتوی نمبر :
59255
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

نمازِ قصر کا مسئلہ

محترم المقام جناب حضرت مولانا مفتی صاحب! گذارش کی جاتی ہے کہ بندہ کو ایک مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے بندہ نہایت پریشان ہے، لہٰذا آپ صاحبان سے گذارش ہے کہ نیچے لکھے ہوئے مسئلہ کو قرآن و حدیث سے ثابت کرکے تحریر عنایت فرمائیں، مسئلہ یہ ہے کہ میں اکثر گاؤں جاتا ہوں بس یا ٹرین پر، تو نماز میں قصر یعنی چار کی جگہ دو رکعت پڑھتا ہوں جبکہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ پوری نماز پڑھوں، بعض کہتے ہیں کہ فرضوں میں قصر اور سنتیں ضرور پڑھوں، کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ کیا کروں، آپ صاحبان اس مسئلہ کو قرآن و حدیث سے ثابت کراکر نماز پڑھانے پڑھنے کا پورا طریقۂ کار کاغذ پر تحریر فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں آپ جس گاؤں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اگر وہ آپ کے وطن سے ۴۸ میل / ۷۸ کلو میٹر یا اس سے زیادہ مسافت پر ہو تو شرعاً آپ پر قصر یعنی چار رکعت والی نماز دو رکعت ادا کرنا واجب ہے، پھر آپ نے جہاں جانے کا ارادہ کیا ہے اگر وہاں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو آپ پر وہاں بھی قصر کرنا واجب ہے۔
اور سنتوں کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اگر آپ حالتِ قرار میں ہوں یعنی سنتیں ادا کرنے میں آپ پر مشقت نہ ہو تو سنت بھی ادا کرنی چاہیۓ، اور اگر آپ حالتِ فرار میں ہوں اس طور پر کہ سنتیں ادا کرنے کی وجہ سے گاڑی کے چلے جانے یا اور کسی قسم کی مشقت یا نقصان کا اندیشہ ہو تو پھر سنتیں چھوڑ کر صرف فرض ہی پڑھ لینا چاہیۓ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی تنویر الابصار: من خرج من عمارۃ موضع اقامتہ قاصدًا مسیرۃ ثلاثۃ ایام ولیالیہا بالسیر الوسط مع الاستراحات المعتادۃ صلی الفرض الرباعی رکعتین۔ اھـ
وفی الدر المختار: (صلی الفرض الرباعی رکعتین) وجوبًا لقول ابن عباس:ان اللہ فرض علی لسان نبیکم صلاۃ المقیم اربعًا والمسافر رکعتین۔ الخ
وفی رد المحتار: تحت قولہ صلی الفرض الرباعی خبر من قولہ من خرج، واحترز بالفرض عن السنن والوتر وبالرباعی عن الفجر والمغرب قولہ (وجوبا) فیکرہ الاتمام عندنا حتی روی عن ابی حنیفۃ انہ قال: من أتم الصلاۃ فقد أساء وخالف السنۃ شرح المینۃ۔ اھـ (ج۲، ص۱۲۱)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59255کی تصدیق کریں
0     1145
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات