کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ہر چند گھنٹوں کے بعد اپنے عضو خاص پر ایک قطرہ محسوس کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پیشاب کا قطرہ نہیں ہے، یہ بےرنگ اور شفاف ہے اور یہ کسی وقت بھی گر سکتا ہے ، چاہے میں اپنے دفتر میں کام کررہا ہوں یا کھیل رہا ہوں۔ میں جب قطرہ دیکھتا ہوں تو میں نماز کی ادائیگی کیسے کر سکتا ہوں؟ مجھے طہارت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟
ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز پڑھ لیا کریں۔ اگر کبھی ایک نماز سے دوسری نماز کے وقت تک اس قطرہ کا خروج نہ ہو اور نہ ہی کوئی دوسرا ناقضِ وضو ظاہر ہو تو اس پہلے وضو سے بھی یہ دوسری نماز پڑھ سکتے ہیں، تاہم اس بیماری کے علاج کے لیے کسی ماہر معالج سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ففی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (إلی قوله) (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل اھ(1/ 305)
وفي رد المحتار: (قوله: وفي حق الزوال) أي: زوال العذر، وخروج صاحبه عن كونه معذورا (قوله: تمام الوقت حقيقة) أي: بأن لا يوجد العذر في جزء منه أصلا فيسقط العذر من أول الانقطاع اھ (1/ 305)واللہ أعلم بالصواب!