احکام نماز

کن کن نمازوں میں لمبی دعائیں کی جائیں-قیام میں قدموں کے درمیان فاصلے کی مقدار

فتوی نمبر :
59495
| تاریخ :
2003-05-02
عبادات / نماز / احکام نماز

کن کن نمازوں میں لمبی دعائیں کی جائیں-قیام میں قدموں کے درمیان فاصلے کی مقدار

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) اگر قیام کی صورت میں امام پاؤں پھیلاکر کھڑا ہوتا ہے اور سجدہ میں جاتے ہوئے پاؤں سمیٹ لیتا ہے تو اس سے نماز میں کوئی فرق آئے گا یا نہیں؟ واضح ہو کہ مذکور امام یہ عمل عذر کی وجہ سے کرتا ہے۔
(۲) جمعہ اور عیدین کے علاوہ کن کن نمازوں میں لمبی دعائیں مانگنے کا اہتمام کرنا چاہیئے؟
(۳) ایک شخص جس امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اس کی برائیاں کرتا ہے اور مذاق اُڑاتا ہے تو کیا ایسے شخص کی نماز اس امام کے پیچھے درست ہے؟
جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) اگرچہ قیام کی حالت میں دونوں پاؤں کے درمیان بقدر چار (۴) انگشت فاصلہ رکھنا سنت ہے لیکن صورتِ مسئولہ میں مذکور صورت کا اختیار کرنا اگر واقعۃً کسی عذر کی بناء پر ہو تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے۔
(۲) دعاؤں کیلئے کوئی جمعہ و عیدین کی نمازیں مخصوص نہیں ، ہر فرض نماز بلکہ ہر نیک عمل کے بعد دعا کی قبولیت کا موقع ہوتا ہے اس لئے ان مواقع میں دعاءِ ماثورہ کا اہتمام بہتر ہے۔
(۳) نماز تو ہوجائے گی مگر کسی عالم اور امام کی برائی تو کیا کسی بھی عام مسلمان کی برائی کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی حاشیۃ الطحطاوی: قوله ( ويسن تفريج القدمين في القيام قدر أربع أصابع ) نص عليه في كتاب الأثر عن الإمام ولم يحك فيه خلافا الخ وفیہا ایضًا تحت ھٰذہ العبارۃ :ا ثم هذا التحديد لمن ليس له عذر أما إذا كان به سمن أو أدرة ويحتاج إلى تفريج واسع فالأمر عليه سهل الخ(ج۱، ص ۱۴۳)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59495کی تصدیق کریں
0     424
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات