کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب میں مسجد میں وقت سے پہلے پہنچ جاتا ہوں تو میں قضا نماز ادا کرنا شروع کرتا ہوں، مجھے مندرجہ ذیل معلومات کرنی ہیں:
(۱) کیا میں قضا نماز دو سنت سے پہلے ادا کرسکتا ہوں؟
(۲) کیا میں قضا نماز دو سنت کے بعد اور دو فرض سے پہلے ادا کرسکتا ہوں؟
(۳) کیا میں قضا نماز دو فرض کے بعد اداکرسکتا ہوں؟
(۴) کیا میں قضا نماز چار سنت کے بعد اورچار فرض سے پہلے ادا کرسکتا ہوں ،ظہر میں؟
(۵) کیا میں فرض نماز ادا کرسکتا ہوں چار فرض عصر کی نماز کے بعد؟
محترم بلوغ کے بعد آپ سے جتنی نمازیں قضاء ہوئی ہیں ان کا اندازہ لگاکر جیسے بھی ممکن ہو ان کی ادائیگی کرکے اپنا ذمہ فارغ کرنا لازم ہے۔
قضاء نماز کی ادائیگی کیلئے کوئی وقت متعین نہیں بلکہ ایک وقت میں بھی جتنی چاہیں نمازیں اداکرسکتے ہیں، البتہ تین مکروہ اوقات (طلوع، زوال، غروب) سے بچنا چاہیئے، جبکہ بہتر اور آسان صورت یہ ہے کہ ہر وقتی نماز کے ساتھ جتنی نمازیں بآسانی پڑھ سکیں، پڑھنی چاہیۓ،اور پڑھ سکتے ہیں۔
وفی الدر: وجمیع اوقات العمر وقت للقضاء الا الثلثۃ المنہیۃ کما مر وہو الطلوع، الاستواء والغروب۔ اھـ وفی الشامیۃ: کثرت الفوائت نوی أوّل ظہر علیہ او آخرہ (الی قولہ) فاذا قضاہا لابد من التعیین (الی قولہ) ولا یضرہ عکس الترتیب لسقوطہ بکثرت الفوائت۔(ج۲، ص۷۲)۔
وفی الہدایۃ: ویکرہ ان یتنفل بعد الفجر (الی قولہ) ولا بأس بان یصلی فی ہذین الوقتین۔ الخ (ج۱، ص۸۵)۔