احکام نماز

سنن و نوافل نیز نماز سے متعلق مختلف سوالات

فتوی نمبر :
59507
| تاریخ :
2003-02-02
عبادات / نماز / احکام نماز

سنن و نوافل نیز نماز سے متعلق مختلف سوالات

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
(۱) کیا اشراق کی نماز دوام کی وجہ سے واجب ہوجاتی ہے؟
(۲) کیا تہجد کی نماز دوام کی وجہ سے واجب ہوجاتی ہے؟
(۳) اوابین کی نماز پر دوام چاہیئے یا وقتاً فوقتاً؟
(۴) امامت کے ساتھ نماز پڑھتے وقت کس حالت تک امام کے ساتھ شامل ہوسکتا ہے؟ یعنی کب تک تکبیرِ اولیٰ میں شریک کہلائے گا؟
(۵) فجر کی نماز میں اگر جماعت کھڑی ہو تو پہلے سنت پڑھنی چاہیئے یا کہ جماعت میں شامل ہونا لازمی ہے؟
(۶) نمازِ عصر سے پہلے چار سنت کا حکم کیا ہے؟
(۷) امام سے اگر مقتدی رکوع، سجدہ و سلام میں سبقت کرلے تو کیا اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱ ،۲ ،۳) صلواتِ خمسہ کے علاوہ جتنی بھی نفل نمازیں منقول ہیں چاہے وہ تہجد، اشراق، اوابین ہوں یا کوئی دوسری عبادت ان کا پڑھنا اور ان پر مداومت کرنا پسندیدہ اور محمود فعل ہے مگر اس کے باوجود بھی یہ نمازیں نفل ہی رہیں گی فرض یا واجب نہیں ہوں گی۔
(۴ ،۵) اصل اور احوط یہ ہے کہ جب امام تکبیرِ اولیٰ کہے اسی وقت مقتدی بھی جماعت میں شریک ہوجائے لیکن اگر کوئی رکوع سے پہلے پہلے امام کے ساتھ شریک ہوگیا تو بھی وہ تکبرِ اولیٰ پانے والا ہی کہلائے گا جبکہ اگر جماعت جانے کا اندیشہ نہ ہو تو سنت پڑھ کر جماعت کے ساتھ شامل ہونا چاہیئے۔
(۶ ،۷) عصر کی فرض نماز سے قبل چار رکعات پڑھنا مستحب ہے، یعنی اگر کسی نے پڑھ لیں تو بہت زیادہ باعثِ ثواب اور نہ پڑھنے کی صورت میں کوئی گناہ نہیں جبکہ مقتدی اگر رکوع، سجود میں امام سے پہلے چلا جائے اور امام کے رکوع اور سجدہ میں آنے تک وہ اسی حالت میں رہے تو ایسا کرنا اگرچہ مکروہ ہے مگر اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی جبکہ مقتدی کی نماز سبقت سے اس وقت فاسد ہوتی ہے جب وہ کسی رُکن میں امام سے پہلے چلا جائے اور امام کے اس رکن میں آنے سے قبل ہی اس رکن کو تمام کرکے اس سے نکل جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

انہ یکرہ ترک تہجد اعتادہ بلا عذر لقولہ علیہ السلام لابن عمرؓ لاتکن مثل فلان کان یقوم اللیل ثم ترکہ ، فینبغی للمکلف الاخذ من العمل بما یطیقہ کما ثبت فی صحیحین احب الاعمال إلی اﷲ ادومہا وان قل۔(ج۲، ص۲۵)۔
وان تطوع بعد المغرب بست رکعات کتب من الاوابین وتلا قولہ تعالٰی (انہ کان للاوابین غفورًا) انما قال فی الاصل ان التطوع بالاربع قبل العشاء حسن لان التطوع بہا لم یثبت انہ من السنن الراتبۃ ولو فعل ذالک فحسن۔(بدائع: ج۱، ص۲۸۵)۔
اما فضیلۃ تکبیرۃ الافتتاح فتکلموا فی وقت ادراکہا والصحیح انہ من ادرک الرکعۃ الاولٰی فقد ادرک فضیلۃ تکبیرۃ الافتتاح۔(ہندیۃ: ج۱، ص۶۹)۔
وهذا يعكر على ما قيل إنه لو رجا إدراك التشهد لا يأتي بسنة الفجر على قول محمد. والحق خلافه لنص محمد على ما يناقضه اهـ أي لأن المدار هنا على إدراك فضل الجماعة، وقد اتفقوا على إدراكه بإدراك التشهد، فيأتي بالسنة اتفاقا كما أوضحه في الشرنبلالية أيضا، وأقره في شرح المنية وشرح نظم الكنز وحاشية الدرر لنوح أفندي وشرحها للشيخ إسماعيل ونحوه في القهستاني وجزم به الشارح في مواقيت الصلاة الخ(شامی: ج۲، ص۵۶)۔
الخامس: ان یأتی مہما قبلہ ویدرکہ الامام فیہما وہو جائز لکنہ یکرہ۔(شامی: ج۱، ص۵۹۵)۔
وندب الاربع قبل العصر۔ (ہندیہ: ج۱، ص۱۱۲)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59507کی تصدیق کریں
0     551
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات