کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) اگر دورانِ نماز بدن کے کسی حصہ سے خون آجائے یا پیپ آجائے جو کہ ایک درہم سے کم جگہ پر پھیل جائے تو کیا نماز ہوجائے گی یا دوبارہ پڑھنی پڑے گی؟
(۲) دورانِ نماز اگر کسی صاحب کا موبائل فون بجنے لگے اور ہمارا دھیان اس کی طرف ہوجائے تو نماز ہوجائے گی یا نہیں؟
(۳) ایک صاحب کی عمر تقریباً ۲۴؍ سال ہے اور وہ ۶؍یا ۷؍ سال سے قضاء نماز ہر فرض نماز کے بعد قضاء پڑھ رہا ہے مگر وہ نیت میں کسی دن یا تاریخ کا ذکر نہیں کرتا صرف قضاء نماز کی نیت کرتا ہے، کیا یہ طریقہ درست ہے کہ نہیں؟ اور کب تک وہ قضاء نمازیں پڑھتا رہے؟ اور نیت اس طرح کرتا ہے: ’’میں نیت کرتا ہوں دو رکعت نمازِ فجر قضاء‘‘۔
برائے مہربانی شریعت کی رو سے تفصیلی جواب سے آگاہ کریں۔ شکریہ
(۱) جب یہ خون موضع زخم سے نکل کر دیگر حصۂ بدن کی طرف بہہ گیا ہے تو اس صورت میں وضو جاتا رہا اورنماز بھی فاسد ہوگئی ہے جس کا اِعادہ لازم ہے۔
(۲ ،۳) اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، تاہم موبائل رکھنے والے شخص کو چاہیئے کہ اپنا موبائل مسجد میں داخل ہوتے ہی بند کردے تاکہ دیگر نمازیوں کیلئے تشویش کا باعث نہ بنے، جبکہ مذکور نیت کے ساتھ فوت شدہ نمازوں کی ادائیگی قاعدۂ شرعیہ کے موافق نہیں بلکہ اسے چاہیئے کہ ایسی نمازوں کی ادائیگی کے وقت یہ نیت کرے کہ میں اپنے ذمہ مثلاً ظہر کی پہلی فوت شدہ نماز یا آخری فوت شدہ نماز کی قضا کررہا ہوں اور ایک غالب گمان تک ادا کرے تاہم اب تک مذکور طریقہ سے پڑھی ہوئی نمازیں شرعاً درست ادا ہوچکی ہیں، اعادہ کی ضرورت نہیں۔
وفی الہندیۃ: ومنہا ما یخرج من غیر السبیلین ویسیل الٰی ما یظہر من الدم والقیح والصدید والماء لعلۃ وحد السیلان ان یعلو فینحذر عن رأس الجرح۔ (ج۱، ص۱۰)۔
وفی خلاصۃ الفتاویٰ: اذا اراد ان یصلی الظہر ینوی اول ظہر علیہ وکذا فی سائر الصلوات ولو لم یعین الاول او الآخر ولکن قال نوبت الظہر الفائتۃ جاز۔ (ج۱، ص۱۹۱)۔