کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت جس کی عادت متعین ہے کہ ہر ماہ کے آخر میں اس کو سات یوم ماہواری آتی ہے، لیکن اس بار اپنی عادت سے پہلے چار یوم سرخی جمے ہوئے خون کی شکل میں نظر آئی ہے پھر مکمل طور پر پاک ہوئی اور ایک ہفتہ پاکی کے بعد حسبِ سابق اپنی عادت کے دنوں میں پھر ماہواری آئی، اب پوچھنا یہ ہے کہ کہ یہ تمام خون حیض شمار ہوگا یا استحاضہ؟ اور اس خلافِ عادت خون دیکھنے کی وجہ سے اس کی عادت وہی پہلے والی ہوگی یا بدل جائے گی؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور خاتون کے خلافِ عادت چار یوم استحاضہ کے ہیں اور ان ایام کی نمازوں کی قضاء اس کے ذمہ لازم ہے۔
فی الہندیۃ: انّ الطہر المتخلّل بین الدمین اذا کان اقلّ من خمسۃ عشر یومًا لم یفصل وکثیر من المتأخرین أفتوا بہٰذہٖ الرّوایۃ (الٰی قولہٖ) وان جاوز العشرۃ ففی المبتدأۃ حیضہا عشرۃ ایام وفی المعتادۃ معروفتہا فی الحیض حیض والطہر طہر ھٰکذا فی السراج الوہاج۔ الخ(ج۱، ص۳۷)۔
وایضًا فیہا: فان رأت بین طہرین تابین دمًا لا علٰی عادتہا بالزیادۃ او النقصان او بالتقدم او التأخر او بہما معًا انتقلب العادۃ الٰی ایام دمہا حقیقیًّا کان او حکمیًّا ھٰذا اذا لم یجاوز العشرۃ فان جاوزہا فمعروفتہا حیض وما رأت علٰی غیرہا استحاضۃ فلا تنتقل العادۃ ھٰکذا فی محیط السرخسی۔ الخ (ج۱، ص۴۰)۔