کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وتر میں متعین طور پر دعائے قنوت (اللّٰہم انا نستعینک) پڑھنا واجب ہے یا مطلقاً دعا پڑھنا واجب ہے مثلاً (ربنا اٰتنا فی الدنیا) وغیرہ پڑھ لینے سے بھی واجب ادا ہوجائے گا؟
وتر کی آخری رکعت میں دعاءِ قنوت پڑھنا واجب ہے، دعائے مشہور (اللّٰہم انا نستعینک) کا پڑھنا واجب نہیں، بلکہ مسنون اور افضل ہے، لہٰذا مذکور دعاء اگر اچھی طرح یاد نہ ہو تو دوسری ادعیۂ ماثورہ مثلاً (اللّٰہم ربنا اٰتنا) وغیرہ پڑھنے کی بھی گنجائش ہے، مگر اس دعاء کے یاد کرنے کا بھی اہتمام چاہیئے۔
فی رد المحتار: ومن لا یحسن القنوت یقول ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ الآیۃ وقال ابو اللیث یقول اللّٰہم غفرلی یکررہا ثلاثا۔(ج۲، ص۷)۔
فی الفتاویٰ التاتارخانیۃ: لیس فیہ دعاء مؤقت وقد روی عن محمد أن التوقیت فی الدعاء یذہب برقۃ القلب وفیہ و الأولی أن یقرأ ’’اللّٰہم انا نستعینک‘‘ ویقرأ بعدہ ’’اللّٰہم اہدنا فیمن ہدیت‘‘ وفیہ ولا ینبغی ان یقتصر علی الدعاء المأثور ’’اللّٰہم انا نستعینک الخ‘‘ و ’’اللّٰہم اہدنا فیمن ہدیت الخ‘‘ کیلا یتوہم العوام أنہ فرض ولکن اذا اتی بالدعاء الماثور فی بعض الاوقات وبغیرہ فی البعض فہو حسن۔ (ج۱، ص۶۷۳)۔