کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو بندہ غفلت کی وجہ سے نمازِ وتر میں دعاءِ قنوت نہیں پڑھتا اور اس کے یاد نہ ہونے کے باوجود کوئی کوشش بھی نہیں کرتا تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ سجدۂ سہو ترکِ واجب کی وجہ سے لازم ہوگا یا نماز ہی نہ ہوگی؟
وتر کی آخری رکعت میں رکوع سے پہلے مطلقاً دعا پڑھنا واجب ہے، اس کے بغیر نمازِ وتر شرعاً ادا ہی نہیں ہوگی، البتہ مشہوردعاءِ قنوت (اللّٰہم انا نستعینک … الخ) کا پڑھنا واجب نہیں بلکہ مسنون اور افضل ہے، لہٰذا مذکور دعا اگر اچھی طرح یاد نہ ہو تو دوسری ادعیۂ ماثورہ (مثلاً اللّٰہم ربنا اٰتنا فی الدنیا … الخ) وغیرہ پڑھنے کی بھی گنجائش ہے، مگر دعاءِ مشہور کے یاد کرنے کا بھی اہتمام چاہیئے، تاہم محض اس مشہور دعا کے ترک سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔
وفی الدر المختار: وہو مطلق الدعاء وفی رد المحتار: أی القنوت الواجب یحصل بأیّ دعاء کان و فی النہر : وأما خصوص اللّٰہم إنّا نستعینک فسنّۃٌ فقط حتّی لو أتٰی بغیرہ جاز اجماعًا۔(ج۱، ص۴۶۸)۔
وفی رد المحتار: ومن لا یحسن القنوت یقول ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ الآیۃ وقال ابو اللیث یقول اللّٰہم اغفرلی یکررہا ثلاثًا۔(ج۲، ص۷)۔