احکام نماز

نماز میں سورتوں کی ترتیب کا حکم -عورت کا بھتیجے سے پردہ

فتوی نمبر :
59618
| تاریخ :
2004-04-15
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز میں سورتوں کی ترتیب کا حکم -عورت کا بھتیجے سے پردہ

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
1. اگر کسی شخص نے نماز میں سورتوں کی ترتیب کی رعایت نہیں رکھی اور سورتوں کو آگے پیچھے کر دیا تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی ؟نیز یہ بھی بتائیں کہ نماز میں سورتوں کی ترتیب واجب ہے یا سنت ہے یا فرض؟
2. احکامِ شرع کی رُو سے آیا چچی کا اپنے بھتیجے سے پردہ ضروری ہے یا نہیں؟ اسی طرح والدہ کی ماموں زاد بہن سے بھی پردہ ضروری ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

1. نماز کے اندر سورتوں کے درمیان ترتیب قائم کرنا فرض یا واجب نہیں، بلکہ سنت ہے، اس لۓ عمداً ترتیب الٹ دینا مکروہ ہے اور بھولے سے ایسا ہو جائے تو شرعاً مکروہ بھی نہیں۔
2. عورت کا اپنے بھتیجے سے پردہ نہیں ، البتہ والدہ کی ماموں زاد بہن سے چونکہ عقدِ نکاح جائز ہے، اس لۓ اس سے پردہ لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: أفاد أن التنكيس أو الفصل بالقصيرة إنما يكره إذا كان عن قصد، فلو سهوا فلا كما في شرح المنية. (1/ 547)۔
وفی الدر المختار: ويكره الفصل بسورة قصيرة وأن يقرأ منكوسا إلا إذا ختم فيقرأ من البقرة. وفي القنية قرأ في الأولى الكافرون وفي الثانية - ألم تر - أو - تبت - ثم ذكر يتم وقيل يقطع ويبدأ، ولا يكره في النفل شيء من ذلك اھ(1/ 546)۔
وفی حاشية ابن عابدين: ويؤيده أيضا أنهم قالوا يجب الترتيب في سور القرآن، فلو قرأ منكوسا أثم لكن لا يلزمه سجود السهو لأن ذلك من واجبات القراءة لا من واجبات الصلاة كما ذكره في البحر في باب السهو اھ(1/ 457)۔
کما دلت علیه آیة التحریم والتحلیل (النساء:۳۳)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59618کی تصدیق کریں
0     748
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات