احکام نماز

لفظ ’’السلام‘‘ کے بعد جماعت کی نماز میں شامل ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
59622
| تاریخ :
2006-06-15
عبادات / نماز / احکام نماز

لفظ ’’السلام‘‘ کے بعد جماعت کی نماز میں شامل ہونے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص لفظِ سلام کے بعد نماز میں شامل ہوا، اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ شخص اسی تکبیر پر بناء کرے یا از سرِ نو دوبارہ تکبیر کہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

لفظ ’’السلام‘‘ کہتے ہی امام کی نماز ختم ہو جاتی ہے، اس لۓ ایسی حالت امام کی اقتداء کرنا درست نہیں، جس سے احتراز اور بجا ئے اقتداء کے انفرادی نماز کی نیت کرنی چاہیۓ، جبکہ بعض فقہاءِ کرام کے نزدیک اسی نیت پر بناء کر کے اپنی انفرادی نماز پڑھی جا سکتی ہے اعادۂ نیت کی ضرورت نہیں، مگر بہتر یہ ہے کہ نئے سرے سے تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: (قوله وتنقضي قدوة بالأول) أي بالسلام الأول. قال في التجنيس: الإمام إذا فرغ من صلاته فلما قال السلام جاء رجل واقتدى به قبل أن يقول عليكم لا يصير داخلا في صلاته اھ(1/ 468)۔
وفی التنویر: إذا فسد الاقتداء لا يصح شروعه في صلاة نفسه (1/ 582)۔
وفی حاشية ابن عابدين: والحاصل أن في المسألة روايتين إحداهما صحة الشروع في صلاة نفسه اھ(1/ 584)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59622کی تصدیق کریں
0     493
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات