السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بعد سلام کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی آدمی دھیان اور توجہ سے نماز نہیں پڑھتا ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے یہ آدمی اس آیت کا مصداق بن سکتا ہے یا نہیں؟ آیت ﴿الَّذِینَ ہمْ عَنْ صَلَاتِہمْ ساہون﴾ (الماعون: 5)اور اس آیت کے مصداق کون لوگ ہیں؟
اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز کو وقت پر پڑھنا بھول جاتے ہیں اور وقت کو ٹال کرتاخیر سے نماز پڑھتے ہیں، تاہم مذکور طرزِ عمل قطعاً مناسب نہیں، اس سے احتراز اور نماز میں توجّہ ودھیان چاہیۓ۔
في التفسير المظهرى: وساهون أى غافلون غير مبالين به روى البغوي بسنده عن مصعب بن سعد بن أبى وقاص عن أبيه قال سئل رسول الله ـ صلى الله عليه وسلم ـ هم عن صلاتهم ساهون قال اضاعة الوقت وفى رواية ابن جرير وابى يعلى قال هم الذين يوخرون الصلاة عن وقتها قال أبو العالية صلوتها لمواقيتها ولا يتمون ركوعها وسجودها وقال قتادة ساه عنها لا يبالى صلى أو لم يصل قيل لا يرجون ثوابا ان صلوا ولا يخافون عليها عقابا ان تركوا وقال مجاهد غافلون فيها متهاونون بها اھ(ص: 4299)۔