کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسبوق اور لاحق مافات کے ادا کرنے میں دونوں برابر ہیں یا ان میں فرق ہے؟
لاحق اپنی بقیہ نماز کی ادائیگی میں حکماً مقتدی ہے، اس لۓ وہ بقیہ نماز پوری کرتے وقت قرأت نہیں کرےگا اور اگر کوئی امر موجبِ سہو صادرہو جائے تو سجدۂ سہو بھی نہیں کرےگا اور مسبوق اپنی بقیہ نماز کی ادائیگی میں حکماً منفرد ہے ، اس لۓ وہ اپنی بقیہ نماز کی ادائیگی میں ثناء، تعوذ، تسمیہ اور قرأت، غرض وہ سب کچھ جو منفرد کرتا ہے وہی کرےگا اور اگر کوئی امر موجبِ سہو پایا جائے تو سجدہ سہو بھی اس کے ذمّہ واجب ہوگا۔
فی الدر المختار: (والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتى يثني ويتعوذ ويقرأ اھ(1/ 596)۔
وفیه أیضاً: واللاحق، حكمه كمؤتم فلا يأتي بقراءة ولا سهو(1/ 595)۔