نماز میں الفاظِ نیت زبان سے پڑھنا کیساہے؟ یہ بدعت تو نہیں؟ بعض لوگ اس کو بدعت کہتے ہیں۔ بیّنوا وتوجروا
نیت دل کے ارادے کا نام ہے اور صحتِ نماز کے لۓ یہی شرط ہے، تاہم اگر کوئی شخص اس غرض سے کہ قلبی ارادے کا اظہار زبان سے بھی ہو جائے اور دل وزبان میں مطابقت ہو ،زبان سے بھی الفاظِ نیت دُہرا لے تو یہ بلاشبہ جائز اور مستحب اَمر ہے، اس کو بدعت قرار دینا جہالت پر مبنی ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
وفی حاشية ابن عابدين: ولذا اختار في الهداية أن التلفظ بها مستحب لمن لم تجتمع عزيمته وإن كان شرطا اھ (1/ 80)۔