کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی سے پہلی رکعت میں رکوع رہ گیا اب تیسری یا چوتھی رکعت میں یاد آ یا تو اب یہ کیا کرے، رکوع کرے اور سجدہ سہو کرے یا نماز کا اعادہ کرے؟
ایسی صورت میں جب بھولا ہوا رکوع یاد آئے تو اسے دہرا لیا جائے اور اس کے بعد سجدے بھی دُہرائے جائیں، تاکہ رکعت کے ارکان کے درمیان ترتیب قائم ہو جائے اور باقی نماز تام کر کے اخیر میں سجدہ سہو بھی کرے۔
فی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله وترتيب القيام على الركوع والركوع على السجود) حتى لو تذكر بعده سجدة صلبية سجدها وأعاد القعود وسجد للسهو، ولو ركوعا قضاه مع ما بعده من السجود اھ(1/ 450)۔
وفی البحر: ولو تذکر رکوعاً قضاه وقضیٰ ما بعده من السجود أو قیاما أو قراءة صلی رکعة تامة اھ (۱/ ۲۹۸)۔