کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی فرض سجدہ بھول جائے تو اسے کب ادا کرے؟ اور ایسے شخص پر سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
جب بھی دورانِ نماز یاد آ جائے اسے ادا کر لے اور اس سے پہلے جو افعال یعنی قیام، قرأۃ، رکوع وغیرہ کیے ہوں، اُن کا اعادہ بھی ضروری نہیں، البتہ آخر میں سجدہ سہو واجب ہے۔
فی الدر المختار: حتى لو نسي سجدة من الأولى قضاها ولو بعد السلام قبل الكلام لكنه يتشهد ثم يسجد للسهو اھ(1/ 463)۔
وفی حاشية ابن عابدين: قال في شرح المنية حتى لو ترك سجدة من ركعة ثم تذكرها فيما بعدها من قيام أو ركوع أو سجود فإنه يقضيها ولا يقضي ما فعله قبل قضائها مما هو بعد ركعتها من قيام أو ركوع أو سجود، بل يلزمه سجود السهو فقط اھ (1/ 462)۔