احکام نماز

’’صلاۃ الحاجۃ‘‘ اور اس کا طریقہ

فتوی نمبر :
59853
| تاریخ :
2014-02-28
عبادات / نماز / احکام نماز

’’صلاۃ الحاجۃ‘‘ اور اس کا طریقہ

۱۔ نمازِ حاجت کیا ہوتی ہے؟ اور نیت سے لیکر نماز کو پورا (ختم) کرنے تک کیسے پڑھی جاتی ہے؟ اور نمازِ حاجت میں دو رکعت ہوتی ہیں یا چار رکعتیں ؟
۲۔ میں نے ایسا سنا ہے کہ نمازِ حاجت کی پہلی رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین تین بار آیت الکرسی پھر چاروں قل اور پھر سورۃِاخلاص پڑھتے ہیں اور اسی طرح چاروں رکعتوں میں پڑھتے ہیں؟ براہ مہربانی مجھے ان تمام سوالوں کے جوابات قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان فرما دیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی بھی دینی یا دنیوی حاجت وضرورت پیش آنے پر جو نماز پڑھی جاتی ہے اس کو ’’صلاۃ الحاجۃ‘‘ کہتے ہیں ، پھر یہ نماز چار رکعت بھی پڑھ سکتے ہیں، مگر دو رکعت پڑھنا افضل ہےاور یہ عام نوافل کی طرح پڑھی جاتی ہے اور سورۃِ فاتحہ کے بعد جو بھی سورت یاد ہو، پڑھ سکتے ہیں، سوال میں مذکور سورتوں کا پڑھنا لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی سنن الترمذي: عن عبد الله بن أبي أوفى، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كانت له إلى الله حاجة، أو إلى أحد من بني آدم فليتوضأ وليحسن الوضوء، ثم ليصل ركعتين، ثم ليثن على الله اھ(1/ 603)۔
وفی الدر المختار: وأربع صلاة الحاجة، قيل وركعتان. (2/ 27)۔
وفی حاشية ابن عابدين: تحت هٰذا: وأما في شرح المنية فذكر أنها ركعتان، والأحاديث فيها مذكورة في الترغيب والترهيب كما في البحر. (2/ 28)۔
وفی الفتاوى الهندية: (ومنها) صلاة الحاجة وهي ركعتان. (1/ 112)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59853کی تصدیق کریں
0     2306
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات