کیا یہ مناسب ہے دوسروں کو آگاہ کرنا اگر کوئی شخص قابلِ اعتماد نہ ہو؟ جس طرح وہ کہے ’’ہاں‘‘اور پھر جھوٹ بولے اور اپنے قول کو بدل دے، کیا ہم دوسروں کو آگاہ کر سکتے ہیں کہ اس شخص پر اعتبار نہ کیا جائے؟ تاکہ وہ اس کے شر سے محفوظ ہو جائیں اور نقصان ان کو نہ ہو۔
اگر کسی شخص کے جھوٹ اور غلط بیانی کی وجہ سے واقعۃً دوسرے لوگوں کو ضرر اور نقصان پہنچنے کا یقین یا ظنِ غالب ہو اور وہ شخص جھوٹ اور دھوکہ دہی میں معروف ہو تو ایسی صورت میں دوسرے ناواقف لوگوں کو اس شخص کے ساتھ اس طرح کے لین دین اور معاملات کرنے سے بچنے کی ترغیب دی جا سکتی ہےتاکہ دیگر لوگ اس کے ضرر اور نقصان سے محفوظ رہیں۔
کمافی الدرالمختار:(وإذا كان الرجل يصوم ويصلي ويضر الناس بيده ولسانه فذكره بما فيه ليس بغيبة حتى لو أخبر السلطان بذلك ليزجره لا إثم عليه) وقالوا إن علم أن أباه يقدر على منعه أعلمه ولو بكتابة وإلا لا كي لا تقع العداوة وتمامه في الدرر الخ
وفی الشامیۃ: (قوله فتباح غيبة مجهول إلخ) اعلم أن الغيبة حرام بنص الكتاب العزيز وشبه المغتاب بآكل لحم أخيه ميتا إذ هو أقبح من الأجنبي ومن الحي، فكما يحرم لحمه يحرم عرضه قال - صلى الله عليه وسلم - " «كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه» ؛ رواه مسلم وغيره، فلا تحل إلا عند الضرورة بقدرها كهذه المواضع (الیٰ قولہ) بما يكره الإنسان يحرم ذكره ... سوى عشرة حلت أتت تلو واحد تظلم وشر واجرح وبين مجاهرا ... بفسق ومجهولا وغشا لقاصدوعرف كذا استفت استعن عند زاجر ... كذاك اهتمم حذر فجور معاند اھ(6/408/409)۔
بیٹے کا والد سے معافی نہ مانگنے کے باوجود والد کے معاف کرنے سے بیٹا گناہ سے بری ہوگا؟
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0اسٹوڈنٹ لانے پر یونیورسٹی سے کمیشن لینا-یونیورسٹی کا امتحان لیے بغیر, فیس لے کر سند جاری کرنا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0یوٹیوب چینل پر کسی عالمِ دین کا درس سن کر, اسے استاد کہہ کر دوسروں اس کا درس پڑھانا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0