میرے شوہر پیرالائز ہیں ، وہ خود سے کوئی کام نہیں کر سکتے ان کا بیٹا ان کا بزنس میں ہاتھ بٹاتا تھا اور ان کی تنخواہ مقرر تھی ، معذوری کے باعث میرے شوہر بینک وغیرہ نہیں جا سکتے تھے اور نہ ہی پیسے وغیرہ ٹرانسفر کر سکتے تھے ، تو یہ سارے کام میرا بیٹا کرتا تھا ، بیٹے نے ان ہزبینڈ کے اکاؤنٹ سے ان کو بتائے بغیر خود ہی پیسے نکال کر ، اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنے شروع کر دیے ، وہ وہاں سے خود ہی پیسے نکال کر اپنے باپ کو بتائے بغیر اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر لیتا اور پھر غلط رسیدیں اور جھوٹی بینک کی اکاؤنٹ کی رسیدیں بنا کے ان کو دے دیتا ، یہ والا سلسلہ دو تین سال چلتا رہا اور وہ اسی طرح سے رقم ان کو بتائے بغیر وہاں سے لے کر اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر کے اپنے بیوی بچوں کے اوپر خرچ کرتا رہا ، جب والد صاحب کو پتہ چلا کہ یہ میرے ساتھ اس طریقے سے کرتا رہا ہے ، تو انہوں نے کہا کہ وراثت میں سے جو بھی تقسیم ہوگی میرے مرنے کے بعد ، اس کے اندر سے جو پیسے آپ نے اس طریقے سے اپنے اکاؤنٹ میں لیے ہیں وہ کاٹ لیے جائیں گے ، تو بیٹے سے ایک اسٹام پیپر پر ہم نے سائن لئے ہیں کہ وراثت میں سے وہ والا حصہ اس کا کٹ کے پھر اس کو باقی دیا جائے گا ، باپ نے اس کو معاف تو کر دیا لیکن بیٹے نے خود سے ابھی تک معافی نہیں مانگی اور نہ ہی شرمندگی کا اظہار کیا ، اب مسئلہ یہ ہےکیا بیٹے کو معاف کرنے کےبعد گناہ ہے ، دنیا و آخرت میں؟
صورت ِمسئولہ میں سائلہ کے بیٹے کا والد کے علم میں لائے بغیر ، اسے جھوٹی رسیدیں دکھاکر ، ان کے اکاؤنٹ سے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرنا اور اسے اپنے استعمال میں لاناجھوٹ اور دھوکہ د ہی جیسے امور پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں تھا ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہگار ہوا ہے ، اور اس پر اسے اپنے والد سے دست بستہ معافی مانگتے ہوئے بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنا ، اور مذکور ناجائز طریقہ سے حاصل کردہ رقم لوٹانی لازم تھی ، چنانچہ جب غلط طریقہ سے حاصل کردہ رقم کا تخمینہ لگاکر باقاعدہ ایک ایگریمنٹ کے ذریعے ، یہ رقم اس کی وراثت سے منہا کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے ، اور مذکور بیٹا بھی اس پر آمادہ ہے ، اور اس کے بعد والد نے بھی بیٹے کے معافی مانگے بغیر اسے اس غلط حرکت پر معاف کر دیا ہے ، تو ایسی صورت میں اپنے والد کو ایذاء رسانی اور دھوکہ دہی کی وجہ سے کوئی گناہ تو باقی نہیں ، لیکن مذکور رقم لوٹائے بغیر آخرت میں سبکدوشی ممکن نہ ہو سکے گی، لہذا بیٹے کے ذمہ طے شدہ معاہدہ کی پاسداری لازم ہے۔
كما في الدر المختار : لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه الخ . (كتاب الغصب ، ج 6 ، ص 200 ، ط : سعيد ) -
و فيه أيضا : ( و يجب رد عين المغصوب) (إلى قوله) ( و يبرأ بردها و لو بغير علم المالك) في البزازية غصب دراهم إنسان من كيسه ثم ردها فيه بلا علمه برئ ، و كذا لو سلمه إليه بجهة أخرى كهبة أو إيداع أو شراء الخ . (كتاب الغصب ، ج 6 ، ص 182 ، ط : سعيد ) -
و في رد المحتار : تحت ( قوله إلا في مسائل ) الأولى : يجوز للولد و الوالد الشراء من مال المريض ما يحتاج إليه المريض بلا إذنه و لا يجوز في المتاع الخ ( مطلب فيما يجوز من التصرف بمال الغير بدون إذن صريح ، ج 6 ، ص 200 ، ط : سعيد ) -
و فيه أيضا : تحت ( قوله و يجب رد عين المغصوب ) لقوله عليه الصلاة و السلم : لايحل لأحد أن يأخذ مال أخيه لا عبا ولا جادا وإن أخذه فليرده عليه زيلعي و ظاهره أن رد العين هو الواجب الأصلى ، و هو الصحيح الخ. ( مطلب في رد المغصوب المال و فيما لو أبى المالك قبوله ، ج 6 ، ص 182 ، ط : سعيد ) - واللہ اعلم
بیٹے کا والد سے معافی نہ مانگنے کے باوجود والد کے معاف کرنے سے بیٹا گناہ سے بری ہوگا؟
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0اسٹوڈنٹ لانے پر یونیورسٹی سے کمیشن لینا-یونیورسٹی کا امتحان لیے بغیر, فیس لے کر سند جاری کرنا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0یوٹیوب چینل پر کسی عالمِ دین کا درس سن کر, اسے استاد کہہ کر دوسروں اس کا درس پڑھانا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0