میری چھوٹی بہن نے اپنے ایک رشتے دار کو کسی کام کے سلسلے میں کال کی اور اس نےاپنی شناخت احتیاط کی وجہ سے اپنے والد صاحب کی بہو ظاہر کی نہ کہ بیٹی،میرا سوال یہ ہے کہ اب اس پر کوئی شرعی حد لگتی ہے ؟ کیونکہ ہمارے کچھ رشتہ دار ہم کو بلیک میل کرتے ہیں کہ ہمارے پاس فتویٰ ہے اور ہم انٹرنیٹ پر لگانے لگے ہیں، برائے کرم ,دین کی روشنی میں رہنمائی فرمائی جائے ۔
واضح ہو کہ جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے جس پر قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا جھوٹ سے بچنا شرعاً لازم ہے، البتہ اگر کسی موقع پر سچ بولنے میں جان کو خطرہ ہو تو اس طرح کی مجبوری کی صورت میں "توریہ" کرنا یعنی ایسے بات کی جائے کہ سننے والا کہنے والے کی مراد کے خلاف سمجھے ، اسکی گنجائش ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سائل کی بہن کو اپنی حقیقی شناخت ظاہر کر نے میں اگر کوئی خطرہ وغیرہ نہیں تھا تو اس جھوٹ بولنے کی وجہ سے وہ گنہگار ہوئی ہے جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے جھوٹ بولنے سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ مذکور غلط بیانی کرنے پر سائل کی بہن پر کوئی شرعی حد لاگو نہیں ہوئی، لہذا سائل کے رشتہ داروں کا سائل کی بہن کو اس پر بلیک میل کرنا شرعاً درست نہیں جس سےاجتناب لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔الآیة (التوبة: 119)۔
و فی صحيح البخاري : عن عبد الرحمن بن أبي بكرة ، عن أبيه رضي الله عنه ، قال : قال النبيﷺ : «ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟» ثلاثا ، قالوا : بلى يا رسول الله ، قال : «الإشراك بالله ، و عقوق الوالدين - و جلس و كان متكئا فقال - ألا و قول الزور»، قال: فما زال يكررها حتى قلنا ليته سكت۔الحدیث (3/172)۔
و فی صحيح مسلم : عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال آية المنافق ثلاث : إذا حدث كذب ، و إذا وعد أخلف ، و إذا اؤتمن خان۔الحدیث (1/78)۔
بیٹے کا والد سے معافی نہ مانگنے کے باوجود والد کے معاف کرنے سے بیٹا گناہ سے بری ہوگا؟
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0اسٹوڈنٹ لانے پر یونیورسٹی سے کمیشن لینا-یونیورسٹی کا امتحان لیے بغیر, فیس لے کر سند جاری کرنا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0یوٹیوب چینل پر کسی عالمِ دین کا درس سن کر, اسے استاد کہہ کر دوسروں اس کا درس پڑھانا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0