کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارےمیں: بہت سارے حضرات جو آن لائن کاروبار کرتے ہیں وہ اپنے کسٹمرز کو متاثر کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ ہم فری ہوم ڈیلیوری دیتے ہیں، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ فری ہوم ڈیلیوری نہیں ہوتی، بلکہ ڈیلیوری کے چارجز سمیت چیز کی قیمت بتائی جاتی ہے، ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ ہم الگ سے چوں کہ ڈیلیوری چارجز وصول نہیں کرتے اس لیے ہم ان چارجز کو اس چیز کی اصل قیمت میں شامل کرکے لوگوں کو بتاتے ہیں، حالاں کہ وہی چیز اگر آف لائن فروخت کی جائے، جس میں ڈیلیوری چارجز نہیں ہوتے، تو اگر آن لائن والی قیمت پر ہی فروخت کریں تو قوی امکان ہے کہ لوگ قیمت مہنگی ہونے کی وجہ سے اس میں دل چسپی نہ لیں، اور اگر آن لائن سے کم قیمت پر فروخت کریں تو آن لائن میں فری ہوم ڈیلیوری کی بات غلط ثابت ہو جائے گی، تو اس تفصیل کی روشنی میں پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس طرح فری ہوم ڈیلیوری کہہ کر لوگوں کو متوجہ کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ کہیں یہ دھوکہ تو نہیں؟ اگر یہ صحیح نہیں ہے اور ڈیلیوری چارجز الگ سے وصول کرتے ہیں تو یہ چیز لوگوں کو متاثر کرنے اور اس چیز کی خریداری کی طرف انہیں راغب کرنے میں مشکل کا باعث ہوگی، پھر اس کا متبادل حل کیا ہونا چاہیے؟
آنلائن کاروبار کرنے والے حضرات کا اپنے کسٹمر کو فری ہوم ڈیلیوری سروس فراہم کرنا، اور ڈیلیوری کے چارجز کو مستقل طور پر علیحدہ وصول کرنے کے بجائے اس تناسب سے فروخت کی جانے والی چیز کی قیمت میں اضافہ کرنا دھوکہ دہی نہیں، بلکہ بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کمافی الھندیۃ: ومنها في العقد وهو موافقة القبول للإيجاب بأن يقبل المشتري ما أوجبه البائع بما أوجبه فإن خالفه بأن قبل غير ما أوجبه أو بعض ما أوجبه أو بغير ما أوجبه أو ببعض ما أوجبه لم ينعقد إلا فيما إذا كان الإيجاب من المشتري فقبل البائع بأنقص من الثمن أو كان من البائع فقبل المشتري بأزيد انعقد فإن قبل البائع الزيادة في المجلس جازت، كذا في البحر الرائق الخ ج3 صـ2 کتاب البیوع الباب الاول ط: دار الفکر)۔
وفی الدرالختار: (فالإيجاب) هو: (ما يذكر أولا من كلام) أحد (المتعاقدين) والقبول ما يذكر ثانيا من الآخر سواء كإن بعت أو اشتريت الدال على التراضي) قيد به اقتداء بالآية وبيانا للبيع الشرعي الخ (ج4 صـ506-507 کتاب البیوع ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: وفي الفتح: الإيجاب الإثبات لغة لأي شيء كان، والمراد هنا إثبات الفعل الخاص والدال على الرضا الواقع أولا سواء وقع من البائع أو من المشتري، كأن يبتدئ المشتري فيقول اشتريت منك هذا بألف، والقبول الفعل الثاني، وإلا فكل منهما إيجاب: أي إثبات فسمى الثاني بالقبول تمييزا له عن الإثبات الأول؛ ولأنه يقع قبولا ورضا بفعل الأول الخ (ج4 صـ506 کتاب البیوع ط: سعید)۔
بیٹے کا والد سے معافی نہ مانگنے کے باوجود والد کے معاف کرنے سے بیٹا گناہ سے بری ہوگا؟
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0اسٹوڈنٹ لانے پر یونیورسٹی سے کمیشن لینا-یونیورسٹی کا امتحان لیے بغیر, فیس لے کر سند جاری کرنا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0یوٹیوب چینل پر کسی عالمِ دین کا درس سن کر, اسے استاد کہہ کر دوسروں اس کا درس پڑھانا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0