احکام نماز

اقامت میں تحویل الوجہ کا حکم

فتوی نمبر :
59905
| تاریخ :
2006-03-27
عبادات / نماز / احکام نماز

اقامت میں تحویل الوجہ کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اقامت میں تحویل الوجہ ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اذان میں تحویل مسنون ہے اور اقامت میں تحویل کے استحباب میں اختلاف ہے، مگر فی زماننا عدمِ تحویل معمول بہا ہے اور ایسا ہی کرنا چاہیۓ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله: ويلتفت) أي يحول وجهه لا صدره قهستاني، ولا قدميه نهر. (قوله: وكذا فيها مطلقا) أي في الإقامة سواء كان المحل متسعا أو لا. (إلی قوله) (قوله: بصلاة وفلاح) لف ونشر مرتب، يعني يلتفت فيهما يمينا بالصلاة ويسارا بالفلاح، وهو الأصح كما في القهستاني عن المنية، وهو الصحيح كما في البحر والتبيين. وقال مشايخ مرو: يمنة ويسرة في كل، كذا في القهستاني. (1/ 387)۔
وفی البحر الرائق: باب الأذان ویلتفت یمینا وشمالاً باالصلاة والفلاح (إلی قوله) لأنه سنة الاذان فلا یتركه (إلی قوله) وقدمنا عن الغنیة أنه یحول فی الإقامة أیضاً وفی السراج الوھاج لا یحول فیھا لأعلام الحاضرین بخلاف الأذان فانه اعلام للغائبین وقیل یحول إذا كان الموضع متسعاً اھ(۱/۲۵۸)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59905کی تصدیق کریں
0     558
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات