احکام نماز

’’میں نماز نہیں پڑھتا‘‘ کہنے کا حکم

فتوی نمبر :
60008
| تاریخ :
2012-11-11
عبادات / نماز / احکام نماز

’’میں نماز نہیں پڑھتا‘‘ کہنے کا حکم

السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی عاقل بالغ لڑکا اپنے والد کے نماز کی ادائیگی کے مطالبہ کے جواب میں کہتا ہے کہ’’ میں نماز نہیں پڑھتا‘‘ جبکہ اس کا ذہنی توازن بھی ٹھیک ہے اور عام دنوں میں کبھی نماز ادا کرتاہے، مگر اس موقع پر اس نے والدکے سامنے انکار کردیاتھا ، یہ بھی واضح رہے کہ یہ لڑکا کسی عورت کی طرف سے نکاح کا گواہ بھی ہے ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس کے اس انکار سے وہ دائرۂ اسلام سے خارج تو نہیں ہوا؟ اور اس سے وہ گواہی متاثر تو نہیں ہوئی؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت کرکے عند اللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں وقتی طور پر نماز پڑھنے سے انکار پر وہ شخص کافر نہیں ہوا اور اسکی گواہی میں منعقد ہونے والا نکاح بھی شرعاً برقرار ہے، اس کی وجہ سے اس نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، مگر نماز کی ادائیگی سے انکار چونکہ گناہِ کبیرہ ہے اور پھر والد کے حکم دینے پر ا س سے انکار کرنا دہرے گناہ کو متضمن ہے، اس لۓ اس پر لازم ہے کہ اپنی اس نافرمانی پر بارگاہِ خداوندی میں توبہ و استغفار کے ساتھ والد سےبھی معافی مانگے اور آئندہ نمازوں کا بھی اہتمام کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الھندية : قول الرجل لا أصلي يحتمل أربعة أوجه : أحدها : لا أصلي لأني صليت ، و الثاني : لا أصلي بأمرك ، فقد أمرني بها من هو خير منك ، و الثالث : لا أصلي فسقا مجانة ، فهذه الثلاثة ليست بكفر. والرابع : لا أصلي إذ ليس يجب علي الصلاة ، و لم أؤمر بها يكفر ، و لو أطلق و قال : لا أصلي لا يكفر لاحتمال هذه الوجوه۔اھ(2/268)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60008کی تصدیق کریں
1     1052
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات