احکام نماز

کیا حالتِ جنابت میں نماز پڑھانے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے؟

فتوی نمبر :
60035
| تاریخ :
2006-12-19
عبادات / نماز / احکام نماز

کیا حالتِ جنابت میں نماز پڑھانے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے؟

مؤدبانہ گزارش یہ ہے کہ بندہ کو ایک مسئلہ درپیش ہے جسکی وجہ سے بندہ یہ مسئلہ آپ سے حل کروانا چاہتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ بندہ ایک مرتبہ نمازِ فجر پڑھنے کیلۓ جاگا اور نماز فجر پڑھنے کیلۓ وضو کر لیا اور پڑھنے کیلۓ تیار ہو گیا ،اس کے بعد معلوم ہوا کہ بندہ کا کپڑا خراب ہے اور مسجد میں نماز پڑھانے کیلۓ کوئی امام موجود نہ تھا اور لوگوں نے کہا کہ نماز پڑھانے کیلۓ آجائیں، چنانچہ مجبور ہو کر نمازِ فجرپڑھائی اور شرم کے مارے لوگوں کو یہ کہہ نہیں سکا کہ بندہ نماز نہیں پڑھا سکتا، اس کے لۓ اب کیا کرنا ہوگا؟ بندہ نے تعلیم الاسلام (ج 2ص 23)میں دیکھا کہ اگر کوئی بندہ بغیر وضو کے نماز میں قیام کر لے تو بندہ کو کافر قرار دیا جائے گا، اگر بندہ کافر ہو جائے تو مسلمان ہونے کیلۓ کیا کرنا ہے؟ اور اگر مسلمان ہو تو بندہ کو اس نماز کیلۓ کیا کرنا پڑےگا؟ اگر کوئی کفارہ ہو تو بتائیں یا اس نماز کیلۓ بندہ کو دوبارہ اس نماز کو لوٹانا پڑیگا، کوئی بھی رائے ہو تو بتائیں اس مسئلہ کو تقریبا دو تین ہفتہ ہو گئے، مگر کوئی بھی مسئلہ حل نہیں کر سکا ، شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور بندہ پر لازم ہے کہ دن کی تعیین کیساتھ لوگوں میں اعادۂ صلوٰۃ کیلۓ اعلان کرے اور اپنے مذکور فعلِ قبیح پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے، تاہم اگر اس نے مذکور حرکت استخفاف اور استہزاء کے طور پر نہ کی ہو تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوا مگر آئندہ کیلۓ اس پر اس قسم کی قبیح حرکت سے مکمل احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی البحر الرائق : و لو ام قوما محدث او جنب ثم علم بعد التفرق یجب الاخبار بقدر الممکن بلسانه او کتابه او رسول علی الاصح اھ(1/366)۔
و في رد المحتار : حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة و أن الإكفار رواية النوادر. و في ظاهر الرواية لا يكون كفرا ، و إنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين ، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفرا عند الكل. اهـ
أقول : و هذا مؤيد لما بحثه في الحلية لكن بعد اعتبار كونه مستخفا و مستهينا بالدين كما علمت من كلام الخانية ، و هو بمعنى الاستهزاء و السخرية به ، أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا و هينا من غير استهزاء و لا سخرية ، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لا يكون كفرا عند الكل تأمل اھ(1/ 81)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60035کی تصدیق کریں
0     583
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات