کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں :
1۔ کیا سیرت النبیؐ کے دن چراغاں کرنا جائز ہے؟ اور عید میلاد النبیؐ کا منانا جائز ہے؟کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم عید میلاد النبیؐ کے دن خود حاضر ہوتے ہیں؟
2۔ عید میلاد النبیؐ کا جس نے انکار کیا، کیا اس کا سر تن سے جدا کرنے کا حکم ہے؟براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشی میں رہنمائی فرمائیں۔
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت و حالات پر مسلمانوں کو مطلع کرنا ، اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے، اور ساری تعلیماتِ اسلامیہ کا خلاصہ ہے، اگر کوئی مسلمان حضورؐ کی ولادت ، معجزات ، غزوات وغیرہ کا ذکر بطرزِ وعظ و درس بغیر کسی خاص قید و پابندی کے کرے تو بے شمار برکتوں کا باعث ہوگا، مگر اس کو کسی خاص دن، تاریخ، مہینہ اور مخصوص طریقہ اور چراغاں وغیرہ کے ساتھ مقید کرنا ، اور اس قسم کی مجالس میں آپؐ کی آمد کا اعتقاد ، اور اسی نظریہ سے قیام کرنا، اور اسی طرز کو ذکر مبارک کیلۓ لازم سمجھنا ، اور جو ایسا نہ کرے، اسے نظرِ حقارت سے دیکھنا، اور اس کو گستاخِ رسول کہنا، اور عید میلاد نہ منانے والوں کا سر تن سے جدا کرنے جیسی جذباتی باتیں کرنا وغیرہ ایسے امور ہیں، جن کی وجہ سے ایک جائز ، بلکہ مستحب امر بھی بدعت بن جاتا ہے، چہ جائیکہ ایسا امر جس کا قرونِ مشہود لہا بالخیر (صحابہ، تابعین، تبعِ تابعین) سے کوئی ثبوت نہ ہو ، نیز یہ طریقہ حضورؐ کے وسیع اور عمومی ذکر جو ایک مسلمان کے سال بھر کی تمام راتوں اور دنوں کو محیط ہے، کو محدود کرنے کے بھی مترادف ہے، اس لیے عید میلاد النبی کے نام سے مجالس منعقد کر کے مختلف ناجائز اور غیر ثابت شدہ امور کے اہتمام سے احتراز لازم ہے۔
فى إعانة المستفيد بشرح كتاب التوحيد : و من الغلو في حقه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: إحياء المولد كل سنة ، لأن النصارى يحيون المولد بالنسبة للمسيح على رأس كل سنة من تاريخهم ، فبعض المسلمين تشبّه بالنصارى فأحدث المولد في الإسلام بعد مضي القرون المفضلة ، لأن المولد ليس له ذكر في القرون المفضلة كلها، و إنما حدث بعد المائة الرابعة ، أو بعد المائة السادسة لما انقرض عهد القرون المفضلة ، فهو بدعة ، و هو من التشبه بالنصارى اھ(1/ 281)۔
و فى الباعث على إنكار البدع : أما بعد فقد تكرر السؤال من كثير عن حكم الاحتفال بمولد النبي صلى الله عليه و سلم و القيام له في أثناء ذلك و إلقاء السلام و غير ذلك مما يفعل في المولد .
و الجواب أن يقال لا يجوز الاحتفال بمولد الرسول و لا غيره لأن ذلك من البدع المحدثة في الدين لأن الرسول لم يفعله و لا خلفاؤه الراشدون و لا غيرهم من الصحابة رضوان الله على الجميع و لا التابعون لهم بإحسان في القرون المفضلة و هم أعلم الناس بالسنة و أكمل حبا لرسول الله و متابعة لشریعة ممن بعدهم. و قد ثبت عن النبي أنه قال من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد أي مردود عليه و قال في حديث آخر عليكم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين المهديين من بعدي تمسكوا بها و عضوا عليها بالنواجذ و إياكم و محدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة و كل بدعة ضلالة اھ(ص: 107)۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0