احکام نماز

دورانِ نماز ، موبائل بند کرنا-ٹیکسی کار کسی کو ماہانہ متعین رقم پر دینا

فتوی نمبر :
60421
| تاریخ :
2006-02-02
عبادات / نماز / احکام نماز

دورانِ نماز ، موبائل بند کرنا-ٹیکسی کار کسی کو ماہانہ متعین رقم پر دینا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) اگر موبائل پر ، نماز کے دوران کال آجائے اور جیب سے آدمی نے موبائل نکال کر اس کی آواز کو بند کرکے پھر رکھ دیا ہو ، تو کیا اس سے نماز کے اندر فقہی اعتبار سے کوئی فساد تو واقع نہیں ہوتا؟
(۲) اگر کسی آدمی نے ، ٹیکسی خریدکر کسی آدمی کو دی ، کہ تو اس کے ذریعے مزدوری کیا کر ، اور روزانہ کے مجھے تین سو روپے دیاکر ، چاہے تو روزانہ پانچ سو کما ، یا ہزار کما ، یا کچھ بھی نہ کما ، مجھے بہرصورت تین سو روپے دینے ہوں گے ، کیا یہ مسئلہ فقہی اعتبار سے جائز ہے یا نہیں ؟ مع دلیل تحریر فرمادیں۔ بینوا وتوجروا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) اس طرح ایک ہاتھ کے استعمال سے موبائل فون کا جیب سے نکالنا اور بند کرنا ، اگرچہ عملِ کثیر نہیں ، مگر دورانِ نماز یہ حرکت قطعاً مناسب بھی نہیں ، ہاں اگر جیب میں ہوتے ہوئے ،عملِ قلیل سے اس کا بند کرنا ممکن ہو ،تو اس کی گنجائش ہے ، ورنہ بجتے رہنے دیا جائے ، مگر موبائل فون رکھنے والوں کا نماز سے قبل اسے بند نہ کرنا ، انتہائی درجہ نامناسب حرکت اور دینی امور میں بے حسی ،و بے توجہی کے مترادف ہے ،جس سے بہرحال احتراز چاہئے۔
(۲) اگر یہ معاملہ کرایہ پر محمول کرلیا جائے اس طور پر کہ روزانہ اتنا کرایہ دینا ہوگا ، تو یہ عمل بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی الہدایۃ : قال و من استأجر دارا فللمؤجر أن يطالبه بأجرة كل يوم لأنه استوفى منفعة مقصودة إلا أن يبين وقت الاستحقاق بالعقد لأنه بمنزلة التأجيل۔(ج۳، ص۲۹۷)۔
و فیہا ایضًا : یجوز استیجار الدواب للرکوب و الحمل لانہ منفعۃ معلومۃ معہودۃ۔(ج۳، ص۲۹۸)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60421کی تصدیق کریں
0     541
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات