کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انڈونیشیاء ، ملائشیاء وغیرہ شافعی ممالک میں فرض نمازوں کے بعد ( یعنی سلام کے فوراً بعد اور دعا سے قبل) چہرہ کے اوپر پیشانی سے لے کر ڈاڑھی کے بالوں تک ہاتھ پھیرنے کی عادت ہے اور اس فعل کو سنت سجمھ کر کرتے ہیں، آیا یہ فعل واقعی مسنون ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
مذکور مروجہ عمل سنتِ نبویہ میں سے نہیں، البتہ اگر اس کے سنت یا مستحب ہونے پر اُن کے پاس کوئی دلیل موجود ہو تو وہ دلیل مع کتاب و جلد و صفحہ ، کی نشاندہی کے ساتھ بیان کردی جائے تو اس پر بھی غور و فکر اور اس کا حکمِ شرعی بیان کیا جاسکتا ہے۔ و اللہ أعلم بالصواب!