میرے قضاء نماز سے متعلق چند سوالات ہیں:
۱۔ اگر کسی کی عصر کی نماز قضاء ہوگئی ہے اور مغرب کی جماعت ملتی ہے تو کیا وہ جماعت میں عصر کے قضاء کی نیت کر کے شامل ہوگا اور پہلے عصر قضاء پڑھ کر پھر مغرب کی نماز پڑھے گا ؟
۲۔ اگر دو اشخاص کی نماز قضاء ہے تو وہ باجماعت قضاء نماز کی ادائیگی کر سکتے ہیں؟
۳۔ دوران سفر کیا قصر نماز میں عصر کی نماز ظہر کے وقت ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟
۴۔ دو یا زیادہ لوگ اگر قصر کی نماز پڑھ رہے ہیں تو وہ دو یا مقررہ رکعتین باجماعت پڑھ سکتے ہیں یا علیحدہ پڑھیں گے؟
۱۔ جس شخص کی عصر کی نماز قضا ہوگئی ہو وہ اگر صاحب ترتیب نہ ہو تو وہ پہلے مغرب کی نماز با جماعت پڑھے اور اس کے بعد اپنی قضاء شدہ عصر کو پڑھے، جبکہ مغرب کی نماز میں عصر کی نیت سے شامل ہونا جائز نہیں، اس طرح کرنے سے نہ عصر ہوگی نہ مغرب، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
۲۔ اگر کچھ لوگوں کی مشتر کہ طور پر کوئی نماز قضاء ہو جائے اور وہ اسے باجماعت پڑ ھنا چا ہیں تو اس کی بھی اجازت ہے۔
۳۔ عند الاحناف سوائے دو مقام مزدلفہ وعرفہ میں حج کے موقع پر دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنے کی اجازت نہیں، البتہ سفری مجبوری کی بناء پر اگر پہلی نماز کو اس کے اخیر وقت میں ادا کرنے کے بعد دوسری نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کر لیا جائے تو یہ بلاشبہ درست ہے، لیکن یادر ہے کہ ہر نماز اس کے وقت میں ہی ادا کی جائے۔
۴۔ نماز خواہ سفر کی ہو یا حضر کی جماعت کے ساتھ پڑھنا سنت مؤکدہ قریب بواجب ہے بلا عذر جماعت ترک کرنا گناہ اور بڑی محرومی کی بات ہے، اس لیے سفر کے دوران بھی جہاں دو یا دو سے زائد افراد ہوں وہاں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
اور اگر سائل کی مراد اس سوال سے کچھ اور ہوتو اس کی وضاحت کے بعد اس سوال کو دوبارہ ای میل کر دیا جائے تو اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم!
ففی منیة المصلی: أنه عليه الصلاة والسلام صلی المغرب عام الأحزاب فلما فرع قال هل علم أحدکم أنی صلیت العصر قالوا لا يا رسول الله ما صليتها فأمر المؤذن فأقام مصلى العصر ثم أعاد المغرب رواه احمد (م ۵۲۹)
وفی الدر المختار: (و) لا (مفترض بمتنفل وبمفترض فرضا آخر) لأن اتحاد الصلاتين شرط عندنا. (1/ 579)
في صحيح البخاري : باب من صلى بالناس جماعة بعد ذهاب الوقت: عن جابر بن عبد الله، أن عمر بن الخطاب، جاء يوم الخندق، بعد ما غربت الشمس فجعل يسب كفار قريش، قال: يا رسول الله ما كدت أصلي العصر، حتى كادت الشمس تغرب، قال النبي صلى الله عليه وسلم: «والله ما صليتها» فقمنا إلى بطحان، فتوضأ للصلاة وتوضأنا لها، فصلى العصر بعد ما غربت الشمس، ثم صلى بعدها المغرب اھ (1/ 122)
في منية المصلى: ولا يجوز الجمع عندنا بين صلوتين في وقت واحد سوى الظهر والعصر بعرفة والمغرب والعشاء بمزدلفة (إلى قوله) كلها محتملة للجمع من حيث الفعل بأداء الأولى في آخر وقتها والثانية في أول وقتها (إلى قوله) قد اجمعت الأمة من كون الوقت شرطا وسببا لا يجوز تقديم الصلوة عليه بمثل حديث شأنه مع ما في الصحيحين عن عبد الله بن مسعود قال والذي لا اله غيره ما صلى رسول الله صلی اللہ علیه وسلم قط ألا لوقتها الا صلوتين جمع بين الظهر والعصر بعرفة وبين المغرب والعشاء يجمع أى مزدلفة - (ص: ٥٤٦)
وفی سنن الترمذي: عن مالك بن الحويرث، قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا وابن عم لي، فقال لنا: إذا سافرتما فأذنا وأقيما، وليؤمكما أكبركما. هذا حديث حسن صحيح. (1/ 280)