بلٹی کے بارے میں معلومات چاہیئے، یہ حلال ہے یا حرام؟
نوٹ: سائل نے مزید وضاحت کے لئے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ مثلاً گاڑیوں والے ایک لاکھ کرایہ پر بلوچستان سے سامان اٹھا کر کراچی آتے ہیں، تو کمپنی گودام والے فوراً انکو کرایہ نہیں دیتے، وہ گاڑی والوں کو ادھر غنی چورنگی ہمارے پاس بھیج دیتے ہیں کہ وہاں سے اپنا کرایہ وصول کرو، تو وہ بیچارے ہمارے پاس مجبور ہو کر آتے ہیں، ہم ان سے بلٹی (رسید) لیکر مثلاً ایک لاکھ کرایہ کی بجائے ہم ان کو پندرہ سو یا دوہزار کم دیتے ہیں، یعنی اٹھانوے ہزار یا ساڑھے اٹھانوے ہزار دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ڈرائیورز لوگ ہمیں برا بھلا بھی کہدیتے ہیں، ہمیں بھی اچھا نہیں لگتاکہ وہ ہمیں ہر وقت برا بھلا کہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ سود ہے، دوسرے کا مال لے رہے ہو، تو اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں؟
سائل نے سوال میں معاملے کی جو صورت ذکرکی ہے، وہ تو شرعاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے، البتہ بوقتِ ضرورت اس کے لئے یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے، کہ گاڑی مالکان سائل سے "بلٹی" کی رقم کے بقدر قرض لے لے، اور پھر قرض کی وصولی کے لئے وہ سائل کو وکیل مقرر کرلے کہ مثلاًفلاں دفتر سے تم یہ قرض وصول کرلینا، اور اس قرض کی وصولی اور آنے جانے وغیرہ کے معاملات کی انجام دہی پر وہ سائل کو طے شدہ اجرت (دوہزار یا پندرہ سوروپے) مقرر کرکے دیدے، اور یہ دونوں معاملے علیحدہ علیحدہ طور پر انجام دیے جائیں، چنانچہ اس طرح کرنے سے یہ معاملہ جائز ہوجائے گا۔
کما فی الدر المختار: فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة. (وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) من القيميات كحيوان وحطب وعقار وكل متفاوت لتعذر رد المثل. الخ (ج5 صـ161 ط: دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين. الخ (ج4 صـ560 ط: دار الفکر)۔
وفیہ ایضاً: [مطلب في بيع الجامكية] (قوله: وأفتى المصنف إلخ) تأييد لكلام النهر، وعبارة المصنف في فتاواه سئل عن بيع الجامكية: وهو أن يكون لرجل جامكية في بيت المال ويحتاج إلى دراهم معجلة قبل أن تخرج الجامكية فيقول له رجل: بعتني جامكيتك التي قدرها كذا بكذا، أنقص من حقه في الجامكية فيقول له: بعتك فهل البيع المذكور صحيح أم لا لكونه بيع الدين بنقد أجاب إذا باع الدين من غير من هو عليه كما ذكر لا يصح قال: مولانا في فوائده: وبيع الدين لا يجوز ولو باعه من المديون الخ (ج4 صـ517 ط: دار الفکر)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0