احکام نماز

بیماری کی وجہ سے پیمپر کے ساتھ نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
61848
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

بیماری کی وجہ سے پیمپر کے ساتھ نماز پڑھنا

میری والدہ کی عمر ۸۰ سال کے قریب ہے ،فالج کی وجہ سے وہ صحیح چل پھر اُٹھ بیٹھ نہیں سکتیں۔ عموماً انہیں پیمپر لگانا پڑتاہے۔ کیا وہ پیمپر کے ساتھ نماز ادا کرسکتی ہیں یا نہیں؟ پیمپر میں پیشاب ہو تو کیا نماز ادا کی جاسکتی ہے؟ پیمپر میں پیشاب نہ ہو تو کیا نماز کی جاسکتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر پیمپر پاک ہو اس میں کوئی نجاست نہ لگی ہو تو سائل کی والدہ کیلئے پیمپر پہن کر نماز پڑھنا تو بلا شبہ جائز ہے البتہ اگر اس میں پیشاب وغیرہ لگا ہو تو اس پیمپر کے ساتھ نماز پڑھنا شرعاً درست نہیں، بلکہ دوسرا پاک پیمپر پہن کر نماز ادا کی جائے، تاہم اگر سائل کی والدہ کو پیشاب کے قطروں کی اس قدر شکایت ہو کہ نماز کے پورے وقت میں اتنا موقع بھی نہ ملے کہ اس میں وضو کرکے صرف فرض نماز اد کرسکے تو ایسی صورت میں سائل کی والدہ شرعاً معذور کہلائیگی، اور معذور کا حکم یہ ہے کہ مثلاً ادائیگی ظہر کیلئے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے، اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کےس اتھ نمازِ ظہر ادا کرسکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط فرض ظہر ادا کرے، اس کے بعد نمازِ عصر کی ادائیگی کیلئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ نماز سے پہلے وضو کرکے نمازِ عصر ادا کرے، اس دوران اگر کچھ قطرے گر بھی جائیں تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح مغرب وعشاء، فجر تمام نمازوں کے اوقات کیلئے وضو کرلیا کرے، اور پھر اس وضو سے وہ تمام عبادات (نماز، قرآن کی تلاوت) بجا لاسکتی ہیں، اس پورے وقت میں اگر قطرے خارج ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضو نہ پایا گیا ہو، تو مذکور عذرکے بار بار صادرہونے سے سائل کی والدہ کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اور ایسی معذوری کی صورت میں پیشاب لگے پیمپر کے ساتھ بھی نماز ادا کی جاسکتی ہے، البتہ اگر اسی دوران پورا وقت نماز ایسا گزرے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہو تو وہ شرعاً معذور نہیں رہے گی، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تنویر الأبصار مع الدر المختار: (وصاحب عذر من بن سلسل) بول لا یمکنه إمساکه (و استطلاق بطن أو انفلات ریح أو استحاضة) أو بعینه رمد أو عمش أو غرب، وکذا کل مایخرج بوجع ولو من أذن وثدی وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا یجد فی جمعی وقتها زمنا یتوضأ ویصلی فیه خالیا عن الحدث (ولو حکما) لأن الانقطاع الیسیر ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (فی حق الابتداء، وفی) حق (البقاء کفی وجوده فی جزء من الوقت) ولو مرة (وفی) حق الزوال یشترط (استیعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقیقة) لأنه الانقطاع الکامل (وحکمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لکل فرض) اللام للوقت کما فی لدلوك الشمس (ثم یصلی) به (فیه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولٰی (فإذا خرج الوقت بطل) أی ظهر حدثه السابق؛ حتی لو توضأ علی الانقطاع ودم إلٰی خروجه لم یبطل بالخرجو مالم یطر أحدث آخر.
وفی الشامیة: قوله اللام للوقت: أی فالمعنی لوقت کل صلاة، بقرینة قوله بعده فإذا خرج الوقت بطل، فلا یجب لکل صلاة. (۱/ ۳۰۵)
وفی الهندیة: تطهیر النجاسة من بدن المصلی وثوبه والمکان الذی یصلی علیه واجب هکذا فی الزاهدی فی باب الانجاس. (۱/ ۵۸) واللہ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 61848کی تصدیق کریں
0     311
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات