کیا ہم نماز کے آخر میں تشہد کی حاجت میں درود ابراہیمی کے بعد مختلف یا کئی دعائیں پڑھ سکتے ہیں؟یا پھر جو دعائیں بتائی گئی ہیں، وہ ہی پڑھ سکتے ہیں؟اُن کے بعد نئی دعا نہیں پڑھ سکتے.
اس میں کوئی تعیین نہیں، بلکہ ادعیہ ماثورہ میں سے جو بھی دعا چاہیں، اور اچھی طرح یاد بھی ہو پڑھ سکتے ہیں، مگر ایسی دعا کرنا جو لوگوں کے کلام کے مشابہ ہو، اس سے احتراز لازم ہے، جبکہ انفرادی اور نفل نمازوں میں ایسی دعائیں بھی پڑھ سکتے ہیں۔
ففی التنویر: ودعا بالأدعیة المذکورة فی القرآن والسنة لا بما یشبه کلام الناس اھ (1/523)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: قال الحنفية: ولا يجوز أن يدعو في صلاته بما يشبه كلام الناس، مثل (اللهم ارزقني كذا) مثلاً(إلی قوله) الدعاء بالعربية: يكون الدعاء بالعربية باتفاق الفقهاء اھ(2/ 910)