احکام نماز

آخری قعدہ میں کون سی دعا پڑھنی چاہیئے؟

فتوی نمبر :
627
| تاریخ :
2004-11-29
عبادات / نماز / احکام نماز

آخری قعدہ میں کون سی دعا پڑھنی چاہیئے؟

کیا ہم نماز کے آخر میں تشہد کی حاجت میں درود ابراہیمی کے بعد مختلف یا کئی دعائیں پڑھ سکتے ہیں؟یا پھر جو دعائیں بتائی گئی ہیں، وہ ہی پڑھ سکتے ہیں؟اُن کے بعد نئی دعا نہیں پڑھ سکتے.

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اس میں کوئی تعیین نہیں، بلکہ ادعیہ ماثورہ میں سے جو بھی دعا چاہیں، اور اچھی طرح یاد بھی ہو پڑھ سکتے ہیں، مگر ایسی دعا کرنا جو لوگوں کے کلام کے مشابہ ہو، اس سے احتراز لازم ہے، جبکہ انفرادی اور نفل نمازوں میں ایسی دعائیں بھی پڑھ سکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی التنویر: ودعا بالأدعیة المذکورة فی القرآن والسنة لا بما یشبه کلام الناس اھ (1/523)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: قال الحنفية: ولا يجوز أن يدعو في صلاته بما يشبه كلام الناس، مثل (اللهم ارزقني كذا) مثلاً(إلی قوله) الدعاء بالعربية: يكون الدعاء بالعربية باتفاق الفقهاء اھ(2/ 910)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد امتیاز مبارک عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 627کی تصدیق کریں
0     1307
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات