ضعیفہ کے نماز قضاء کے لیے کیا کرنا ہے اور اگر وہ اسی حالت میں انتقال کر جائے؟
اولاً تو کسی بھی ضعیف العمر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی قضاء نمازوں کی ادائیگی کی کوشش کرے اگرچہ لیٹ کر اشارہ کے ڈریعے ہو اور اس کے ساتھ احتیاطا فدیہ ادا کرنے کی وصیت بھی کردے، اب اگر اسی حالت میں اس کا انتقال ہو جائے اور فدیہ دیدینے کی وصیت بھی کی ہو تو ورثاء کے ذمہ اس کے ترکہ سے ایک تہائی کی حد تک اس وصیت پر عمل کرنا لازم ہے اور اگر اس نے وصیت نہ کی ہو تو ورثاء کے ذمہ فدیہ کی ادائیگی لازم نہیں، البتہ جو ورثاء عاقل بالغ ہوں اور اپنی مرضی وخوشی سے فدیہ ادا کرنا چاہیں تو بلاشبہ کر سکتے ہیں اور یہ شرعاً بھی جائز اور درست ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات عالی سے اُمید ہے کہ وہ اس فدیہ کو قبول فرما کر مرحوم کو درگذر فرمائیں گے۔
ففی الفتاوى الهندية: إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة فأوصى بأن تعطى كفارة صلواته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع (إلی قوله) وفي فتاوى الحجة وإن لم يوص لورثته وتبرع بعض الورثة يجوز اھ (1/ 125) واللہ أعلم بالصواب!