محترم مفتی صاحب! میری شادی کو بارہ سال کا عرصہ ہو چکا ہے اور ایک بیٹی،بیٹا ہیں، میں جوائنٹ فیملی میں رہتا تھا اوربیوی بچوں کو ہر آسائش فراہم کی ہے، دو سال قبل میرے والد صاحب کی بےوجہ پابندی اور الزامات کی وجہ سے میری بیوی اپنے والدین کے گھر رک گئی اور مجھ سے اصرار کرتی رہی کہ میں بھی اسکے ماں باپ کے گھر شفٹ ہو جاؤں، بقول بیوی کے یہاں پر رہنے سے نہ کرایہ اور نہ کھانا پینا کے اخراجات ہونگے ، جب تک میری (جاب)نوکری نہ ہو جائے ،کرونا کی وجہ سے میرا پورا سال کاروبار بند رہا اور کوئی نوکری بھی نہیں مل سکی، ایک سال بےروزگاری کے دوران میں سسرال میں رہا ،جب کے اپنے بچوں کے تمام خرچے میں خود اٹھاتا رہا ،اسکے علاوہ کھانا پینا سسرال کی طرف سےتھا، ایک سال بعد میری نوکری لگی اور میں نے کرائے پر گھر لیا اور بیوی بچوں کو لیکر وہاں شفٹ ہو گیا، مگر اب ڈیڑھ سال کے بعد پھر معاشی بحران کی وجہ سےمیری مالی حالت کچھ نیچے ہونے لگی، چار ماہ سے بےروزگار تھا، کوئی کام نہیں ملا، جو سیونگ تھی بس وہی چل رہی ہے، اب کرایہ ادا کرنا مشکل ہورہا تھا تو میں نے بیوی سے کہا کہ کرایہ کے علاوہ تمام خرچے پورے ہوتے رہیں گے،مگراب کرایہ ادا نہیں ہوگا ، میں پہلے ہی قرضوں میں ہوں، اور ان کے علاوہ بھی سسرال سے قرض لیا ہوا ہے ، مزید کسی سے قرض نہیں لے سکتا ، بیوی سے کہا کہ میرے والدین کے گھر شفٹ ہو جاؤ، وہا ں پر تمہیں پورا سیپرٹ پورشن مل رہا ہے ، اور کوئی روک ٹوک بھی نہیں ہوگی،یا پھر اپنے والدین کے گھر شفٹ ہو جاؤ، تاکہ کم از کم رینٹ کی بچت ہو،حالات بہتر ہوتے ہی رینٹ پر گھر لے لونگا، اس بات پر بیوی مجھ سے لڑائی کر کے بچوں کے ساتھ اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور اپنا سارا سامان بھی ساتھ لے گئی، جس پر میں نے ان لوگوں سے کہا کہ اگر آپ جدائی ہی چاہتے ہیں یا جو کچھ بھی آپ لوگ چاہتے ہیں، باہمی رضامندی سے شریعت کے مطابق فیصلہ کروا لیں،شریعت کا فیصلہ جو بھی ہو گا، میں قبول کروں گا،تاکہ کسی پر بھی ظلم نہ ہو ، مگر افسوس!ایک ہفتہ بعد ہی میری بیوی اور سسر نے مجھ پر جھوٹا کیس کردیا،جھوٹا الزام لگایا کی شوہر نے دو سال سے بیوی اور بچوں کو نان نفقہ نہیں دیا، اور بیوی کو جسمانی یا ذہنی اذیتیں دیتا ہے،اور بھی بہت جھوٹے الزام اور تہمتیں لگائیں،حقیقت یہ ہے کہ آج تک میں نے اپنی اولاد پر ہاتھ نہیں اٹھایا تو بیوی پر کیسے اٹھا سکتا ہوں، جب کے میرے ساتھ رہتے ہوئے ایک وقت کا بھی فاقہ نہیں ہوا، اپنی حیثیت سے بڑھ کر ہر ضرورت پوری کی ہے بیوی اور بچوں کی، بیوی نے عدالت میں جھوٹ بولا کہ میں دو(2) لاکھ سے زیادہ کماتا ہوں،لہٰذا ایک لاکھ بیس ہزار( 120,000 )ماہانہ نان ونفقہ دلوایاجائے،پہلےدو(2)سال کا خرچہ چوبیس لاکھ(2400000) بھی دلوایاجائے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میں ڈیلی ویجز "یومیہ اجرت"پر کام کرتا ہوں،کبھی کام ہوتا ہے کبھی نہیں، اوسطاً چالیس ہزار(40000) تک کماتا تھا، شرعی حکم معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اسطرح جھوٹی تہمت لگا کر اور جھوٹی گواہی دلوا کر کورٹ کے ذریعہ مجھ سے لیا گیا پیسہ بیوی اور سسر کیلئے جائز ہونگے یا حرام؟نیز شریعت میں ایسی حرکت کرنے والوں کے لئے کیا وعید ہے؟ جزاک اللہ خیراً
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہوتو سائل کی بیوی اور سسر کا سائل پر جھوٹے الزامات لگا کر بذریعۂ عدالت سائل سے بھاری رقم وصول کرنا یا گذشتہ عرصے کے نان و نفقہ کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ سائل کے ذمہ چونکہ اپنی بیوی بچوں کو مناسب رہائش اور نان و نفقہ فراہم کرنا شرعاً لازم اور ضروری ہے، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ بیوی کو مناسب رہائش اور نان و نفقہ کا انتظام کر کے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
كما في أحكام القرآن للجصاص: قال الله تعالى: [يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم]. قال أبو بكر: قد انتظم هذا العموم النهي عن أكل مال الغير بالباطل وأكل مال نفسه بالباطل وذلك لأن قوله تعالى: [أموالكم]يقع على مال الغير ومال نفسه، كقوله تعالى: [ولا تقتلوا أنفسكم]قد اقتضى النهي عن قتل غيره وقتل نفسه; فكذلك قوله تعالى: [لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل]نهي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل. وأكل مال نفسه بالباطل إنفاقه في معاصي الله; وأكل مال الغير بالباطل قد قيل فيه وجهان: أحدهما: ما قال السدي وهو أن يأكل بالربا والقمار والبخس والظلم, وقال ابن عباس والحسن: أن يأكله بغير عوض، (الی قوله) وقول النبي صلى الله عليه وسلم: "لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيبة من نفسه"، وعلى أن النهي عن أكل مال الغير معقود بصفة، وهو أن يأكله بالباطل; وقد تضمن ذلك أكل أبدال العقود الفاسدة كأثمان البياعات الفاسدة، (الی قوله). وأما قوله تعالى: ]إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم[ اقتضى إباحة سائر التجارات الواقعة عن تراض. والتجارة اسم واقع على عقود المعاوضات المقصود بها طلب الأرباح، (الی قوله) البياعات والإجارات والهبات المشروطة فيها الأعواض; لأن المبتغى في جميع ذلك في عادات الناس تحصيل الأعواض لا غير.اھ(2/ 217)
وفی الدرالمختار: (وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية. وفي البحر عن الخانية: يشترط أن لا يكون في الدار أحد اھ(3/ 599)