احکام نماز

چودہ دن مکمل اور کچھ زائد ساعات کی اقامت کی صورت میں قصر کا حکم

فتوی نمبر :
64925
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

چودہ دن مکمل اور کچھ زائد ساعات کی اقامت کی صورت میں قصر کا حکم

میں ایک ادارے میں کا م کرتا ہوں جو تقریباً چار سو کلو میٹر کے فاصلے پرہے، جہاں چودہ دن قیام کرتاہوں اس بارے میں وضاحت درکار ہے کہ نماز قصر پڑھ لوں یا پوری نماز ،، مثال کے طور پر پہلی تاریخ کو نکلتا ہوں او رات کو اپنی ڈیوٹی والی جگہ پر قیام کرتا ہوں پھر میری واپسی 16 تاریخ کی صبح کو ہوتی ہے اب سمجھ نہیں آرہی ہے کہ 15 دن پورے ہوئے یا نہیں ، بظاہر لگ رہا ہے کہ 14 دن اور ایک رات ہوگئی تو ان دنوں کو شمار کرکے آپ مجھے بتائیں کہ نماز کا کیا حکم ہے قصر ہوگی یا پوری اور پھر میں نے یہ بھی سنا ہے کہ جہاں ایک دفعہ کوئی 15 سے زیادہ دن قیام کرلے تو وہاں مقیم کہلاتاہے اور وہ پوری نماز پڑھے گا اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ڈیوٹی والی جگہ گھر کے مانند ہوتی ہے ، مہربانی کرکے رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے اپنی ملازمت والی جگہ میں اگر کبھی مکمل پندرہ یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ کی ہو تو اگر چہ سائل مذکور جگہ چودہ سے کچھ زائد وقت ٹھہرتا ہو ، تب بھی سائل شرعاً مسافر شمار ہوگا اور سائل کے ذمہ اپنی انفرادی نماز میں قصر کرنا لازم ہوگا ، البتہ اگر کبھی سائل نے موضعِ ملازمت میں پندرہ دن یا اس سے زائد قیام اور ٹھہرنے کا قصد وا رادہ کیا ہو،تو ایسی صورت میں مذکو ر مقام سائل کا وطنِ اقامت شمار ہوگا اور پھر جب تک یہاں سائل کا ضروری رہائشی سامان( بستر ، کپڑے، بیگ اور برتن وغیرہ) موجود رہے تب تک مذکور جگہ کی اقامت باقی رہے گی، چنانچہ اس دوسری صورت میں اگر کبھی سائل پندرہ دن سےکم ٹھہرنے کے ارادے سے آئے تب بھی سائل کے ذمہ مذکور جگہ پوری نماز پڑھنا لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: ووطن الاقامة یبطل بوطن الاقامة و بانشاء السفر و بوطن الاصلی ھکذا فی التبین۔(142/1)
و في المبسوط للسرخسي: قال: (خراساني قدم الكوفة فأقام بها شهرا ثم خرج منها إلى الحيرة فوطن نفسه خراسان ويمر بالكوفة، على إقامة خمسة عشر يوما ثم خرج منها يريد فإنه يصلي ركعتين)؛ لأن وطنه بالكوفة كان وطنا مستعارا فانتقض بمثله، فالحاصل أن الأوطان ثلاثة. وطن قرار ويسمى الوطن الأصلي وهو أنه إذا نشأ ببلدة أو تأهل بها توطن بها . ووطن مستعار وهو أن ينوي المسافر المقام في موضع خمسة عشر يوما وهو بعيد عن وطنه الأصلي و وطن سكنى وهو أن ينوي المسافر المقام في موضع أقل من خمسة عشر يوما وهو بعيد عن وطنه الأصلي ووطن سكنى وهو أن ينوي المسافر المقام في موضع أقل من خمسة عشر يوما أو خمسة عشر يوما وهو قريب من وطنه الأصلي، ثم الوطن الأصلي لا ينقضه إلا وطن أصلي مثله، والوطن المستعار ينقضه الوطن الأصلي ووطن مستعار مثله والسفر لا ينقضه وطن السكنى لأنه دونه ، ووطن السكنى ينقضه كل شيء إلا الخروج منه لا على نية السفر (252/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 64925کی تصدیق کریں
0     583
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات