احکام نماز

عورتوں کا مسجد میں مردوں کے ساتھ مخلوط ہوکر نماز ادا کرنا

فتوی نمبر :
6513
| تاریخ :
2009-06-20
عبادات / نماز / احکام نماز

عورتوں کا مسجد میں مردوں کے ساتھ مخلوط ہوکر نماز ادا کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام قرآن و حدیث کی روشنی میں ، عورتوں کا مسجد میں مردوں کے شانہ بشانہ نماز ادا کرنے کے بارےمیں ، کہ ایک مسجد جو امریکہ میں واقع ہے اس مسجد کے پہلے خطیب فوت ہو چکے ہیں اور اب جو نئے سکالر وہاں جمعہ پڑھانے آتے ہیں وہ عورتوں کے لۓ اس بات پر بہت زور دے رہے ہیں کہ وہ میرے سامنے بیٹھ کر وعظ سماعت کریں اور مردوں کے ساتھ نماز جماعت کے ساتھ ادا کریں، حالانکہ پہلے مسجد میں باپردہ گیلری میں عورتیں وعظ سنتیں اور نماز با جماعت ادا کرتی تھیں ، ایسے سکالر کے بارے میں کیا حکم ہے جو عورتوں کو مردوں کے برابر بیٹھ کر وعظ سننے اور اسی صف میں نماز ادا کرنے کا حکم دے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اولاً تو یہ واضح ہو کہ عورت کی وہ نماز ، جو وہ اپنے گھر کے صحن میں پڑھے اس سے بہتر وہ نماز ہے جو برآمدہ میں پڑھے ، اور اس سے بہتر وہ نماز ہے جو کمرے میں پڑھے ، اور اس سے بھی بہتر وہ نماز ہے جو کمرے کے ایسے حصے میں پڑھے جہاں غیر محرم کی نظر کا کوئی اندیشہ نہ ہو۔
اس کے بعد چاننا چاہیۓ کہ عورتوں کا بجائے مسجد کے گھروں میں نماز پڑھنا زیادہ اجرو ثواب کی بات ہے، اس لۓ انہیں گھر میں نماز پڑھنے کا بھی اہتمام کرنا چاہیۓ ، اور اگر وہ مسجد چلی جائے تو پردہ شرعی ملحوظ رکھتے ہوئے ایسی جگہ بیٹھے اور نماز کا اہتمام کرے جہاں نہ غیر محارم کی نظریں پڑتی ہوں اور نہ ہی کسی قسم کے فتنے کا اندیشہ ہو ،اسی طرح بجنے والے زیورات پہن کر یا خوشبو لگا کر جانے سے بھی پرہیز کرے، لہذا مذکور اسکالر صاحب موصوف کا عورتوں کو اپنے سامنے بیٹھنے اور مردوں کے برابر کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے کی ترغیت دینا ، اس کی ضلالت اور گمراہی پر علامت ہے، ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام و خطیب مقرر کرنا اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں، مسجد کی انتظامیہ کمیٹی پر لازم ہے کہ وہ اس شخص کے بجائے کسی متقی و پرہیزگار اور متبعِ شریعت شخص کا انتخاب کریں تاکہ عوام الناس کی نماز بلا کراہت ادا ہوسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ : ﴿وَ لَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَ لَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ(إلی قوله) وَ لَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (النور: 31)۔
فی صحيح الترغيب و الترهيب : و عن أم حميد امرأة أبي حميد الساعدي رضي الله عنهما : أنها جاءت إلى النبي - صلى الله عليه و سلم - فقالت : يا رسول الله! إني أحب الصلاة معك؟ قال : "قد علمت أنك تحبين الصلاة معي ، و صلاتك في بيتك خير من صلاتك في حجرتك ، و صلاتك في حجرتك خير من صلاتك في دارك، و صلاتك في دارك خير من صلاتك في مسجد قومك ، و صلاتك في مسجد قومك خير من صلاتك في مسجدي". قال : فأمرت ، فبني لها مسجد في أقصى شيء من بيتها و أظلمه ، و كانت تصلي فيه ، حتى لقيت الله عز و جل. رواه أحمد ، و ابن خزيمة و ابن حبان في "صحيحيهما" اھ (1/ 258)۔
و فی صحيح ابن خزيمة : عن عمته ، امرأة أبي حميد الساعدي أنها جاءت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله "صلى الله عليه و سلم" ، إني أحب الصلاة معك ، فقال : «قد علمت أنك تحبين الصلاة معي ، و صلاتك في بيتك خير من صلاتك في حجرتك ، و صلاتك في حجرتك خير من صلاتك في دارك ، و صلاتك في دارك خير من صلاتك في مسجد قومك ، و صلاتك في مسجد قومك خير من صلاتك في مسجدي» ، فأمرت ، فبني لها مسجد في أقصى شيء من بيتها و أظلمه ، فكانت تصلي فيه حتى لقيت الله عز و جل اھ (3/ 95)۔
و فی مصنف ابن أبي شيبة : عن عبد الله بن عباس : أن امرأة سألته عن الصلاة في المسجد يوم الجمعة ، فقال : «صلاتك في مخدعك أفضل من صلاتك في بيتك ، و صلاتك في بيتك أفضل من صلاتك في حجرتك ، و صلاتك في حجرتك أفضل من صلاتك في مسجد قومك» اھ (2/ 156)۔
و فی الدر المختار : (و يكره حضورهن الجماعة) و لو لجمعة و عيد و وعظ (مطلقا) و لو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان اھ (1/ 566)۔
و فیه أیضا : و يكره تقليد الفاسق و يعزل به إلا لفتنة . و يجب أن يدعى له بالصلاح اھ (1/ 548)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حنیف شریف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 6513کی تصدیق کریں
0     487
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات