احکام نماز

ملازمت کی وجہ سے نماز قضاء کرنا

فتوی نمبر :
65346
| تاریخ :
2009-07-20
عبادات / نماز / احکام نماز

ملازمت کی وجہ سے نماز قضاء کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں فوج میں ملازم ہوں اور میری ڈیوٹی مین گیٹ پر ہوتی ہے اور بعض اوقات ڈیوٹی کے دوران نماز کا وقت ہو جا تا ہے، لیکن میں ڈیوٹی پر ہو تاہوں، جس کی وجہ سے میں نماز نہیں پڑھ سکتااور نماز قضاء ہو جاتی ہے، اگر دورانِ ڈیوٹی میں نماز پڑھنے جاؤں تو مجھے سزا ملنے کا احتمال بھی ہو تا ہے، لہٰذا آپ حضرات سے گذارش ہے کہ میرے اس مسئلہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں حل فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کر دہ عذر کی وجہ سے سائل کے لۓ نماز قضاء کرنا کسی حال میں بھی جائز نہیں، بلکہ مذکور مجبوری کی وجہ سے سائل کے لۓاگر کبھی کبھار نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو اپنی ڈیوٹی کی جگہ پر اکیلا ہی نماز پڑھا کرے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو سائل کو چاہیۓکہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ متعلقہ افسران سے نماز کے لۓ وقت دینے کی بات کرے، جس کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سائل کے ساتھ ایک اور شخص کو بھی ڈیوٹی پر لگا دیا جائے اور پھر دونوں میں سے ترتیب وار ہر ایک نماز پڑھنے کا اہتمام کرے ور نہ بصورتِ دیگر سائل کے لۓ نوکری کی وجہ سے نماز قضاء کر ناشر عاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

في سنن الترمذي: عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من جمع بين الصلاتين من غير عذر فقد أتى بابا من أبواب الكبائر اھ (1/ 259)۔
وفي الدر المختار: لم يقل المتروكات ظنا بالمسلم خيرا، إذ التأخير بلا عذر كبيرة لا تزول بالقضاء بل بالتوبة اھ(2/ 62)۔
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: والظاهر أن المراد بالمأثم ترك الصلاة فلا يعاقب عليها إذا قضاها وأما إثم تأخيرها عن الوقت الذي هو كبيرة فباق لا يزول بالقضاء المجرد عن التوبة بل لا بد منها هذا ويجوز تأخير الصلاة عن وقتها لعذر اھ (2/85)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65346کی تصدیق کریں
0     974
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات