کچھ لوگ مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تیز قدموں سے آجاتے ہیں، مگر آتے ہی اگر نماز کھڑی ہو تو کرسی پر ایسے بیٹھ جاتے ہیں کہ استراحت فرما رہے ہوں، میں نے ایک نمازی سے اپنے امام کے سامنے کہہ دیا کہ جتنے ارکان ادا کر سکتے ہو ادا کریں اور جس رکن کے لۓ تکلیف محسوس کر رہے ہو وہ ساقط ہو جائےگا، مثلاً ایک آدمی قیام کر سکتا ہے، رکوع کر سکتا ہے، رکوع کے بعد قیام کر سکتا ہے، مگر وہ سارے ارکان اشاروں سے کرسی پر ٹیک لگا کر ( اگرچہ کمر میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور ایسے اکثر لوگ گھٹنوں کی شکایت کرتے ہیں ) نمازادا کرتے ہیں ،چند دن بعد اُس نے محلے کے دوسری مسجد کے امام کا حوالہ دیکر بیٹھتے ہوئے نماز کو ترجیح دی ۔
بہرحال مندرجہ بالا حال میں نماز کیسے ادا کی جائے ؟
گھٹنوں کے معمولی درد کی وجہ سے بیٹھ کر اشاروں سے نماز پڑھنا تو جائز نہیں ہے، اس سے احتراز لازم ہے،البتہ کسی شخص کو واقعی ایسی تکلیف ہو جس کی وجہ سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو تو اگرچہ وہ قیام پر قادر ہو،تب بھی اس کو بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے ۔
ففي البدائع ، فان عجز عن الركوع والسجود يصلى قاعدا ( إلى قوله) فان عجز عن القعود يستلقي ریؤم إیماء اھ( 1/105 )۔
وفي الدر المختار: (وإن تعذرا ) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أوما) بالهمز ( قاعدا ) وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض اھ(2/97 )۔