کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گھر کی مستورات اکثر وبیشتر پہلی رکعت قیام کے ساتھ اور بقیہ رکعتیں بیٹھ کر پڑھتی ہیں ، ہمارے سمجھانے پر وہ تھکن، درد اور کمزوری کے علاوہ گھریلو کام کاج وغیرہ جیسی وجوہات بیان کرتی ہیں ، کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ ایسا کرنے سے نماز کی صحت پر اثر پڑے گا یا نہیں ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
فرض، واجب نمازوں میں قیام فرض ہے اور بلاعذر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی، اس لۓ سائل کے گھر کی خواتین کو کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کا اہتمام لازم ہے، البتہ دیگر تمام نفل اورسنت نمازیں بیٹھ کر پڑھنا بلاکراہت جائز ہے خواہ عذر ہو یا نہ ہو۔
في التاتارخانية: المريض اذا قدر على الصلاة قائما بركوع وسجود فانه یصلى المكتوبة قائما برکوع وسجود فلايجزيه غير ذلك اھ (۱/ ۱۷۰ ) ۔
وفي حاشية الطحطاوي: يجوز النفل مع القدرة على القيام ولكن له نصف أجر القائم لقوله عليه السلام من صلى قائما فھو أفضل ومن صلى قاعدا فله نصف أجر القائم اھ ( ص: ۴۰۳ )۔