احکام نماز

کام کاج کے کپڑوں میں نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
65361
| تاریخ :
2018-03-22
عبادات / نماز / احکام نماز

کام کاج کے کپڑوں میں نماز پڑھنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ کام کاج کے کپڑوں میں مثلاً مکینک یا مزدور وغیرہ اور گیراج والے جو نماز پڑھتے ہیں، تو کیا اس سے نماز میں کوئی فرق تو نہیں آتا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کام کاج کے کپڑے اگر نجس اور ناپاک نہ ہوں تو ایسے لباس میں بھی نماز اگرچہ ہو جاتی ہے، مگر ایسا لباس فقہاءِ کرام نے مکروہ لکھا ہے، کیونکہ جس لباس میں آدمی کسی باوقار شخص سے ملاقات یا مجلس میں شرکت کرنے سے عار محسوس کرے،ایسے لباس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے عبادت کرنے میں زیادہ عار محسوس کرنی چاہیۓ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الفتاوى الهندية: وتكره الصلاة في ثياب البذلة. كذا في معراج الدراية اھ (1/ 107)۔
و في الدر المختار: (وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة، إن له غيرها وإلا لا اھ(1/ 640)۔
وفی حاشية ابن عابدين: تحت:(قوله وصلاته في ثياب بذلة) قال في البحر، وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر والظاهر أن الكراهة تنزيهية. اهـ(1/ 641)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65361کی تصدیق کریں
4     1755
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات