کیا فرماتے ہیں علما ءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنے بیٹے کو اس کی بیوی سمیت نماز پڑھنے کا کہتا ہوں، مگر وہ پڑھتے نہیں،اور بیٹا اپنی ماں سے جھگڑتا بھی ہے، اب آیا ان کے نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے ہم گناہ گار ہوں گے یا نہیں؟ اور نماز نہ پڑھنے کی وجہ سےآیا اس کو گھر سے نکالنا (عاق کرنا) جائز ہے یا نہیں؟قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسی تدبیر بتائیں جس سے ہم گناہ گار ہونے سے بچ جائیں۔
واضح ہو کہ نماز دینِ اسلام کا ایک بہت بڑارکن اور فریضہ ہے اور قرآن وحدیث میں اس کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے اور اس کے اہتمام نہ کرنے پراور قضا ءکر دینے پر بہت زیادہ سخت وعیدیں وارد ہوئیں ہیں، اس لۓ خود نماز کا اہتمام اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت ضروری ہے ، مگر اس سے آگے بڑھ کر نماز نہ پڑھنے والوں پرایسی سختی کرنا جس سے مزید فتنے کا اندیشہ ہو، درست نہیں ، اس لۓ سائل کو چاہیۓ کہ حکمت کے ساتھ بیٹے اور بہو کو سمجھانے کی کوشش کرے، اگر خود سمجھانا مفید نہ ہو تو کسی بزرگ اور عالم کے ذریعہ سمجھائے اور ساتھ ساتھ دعاؤں کا بھی اہتمام کرے، ان شاء اللہ بہتری آئےگی، لیکن اس کی وجہ سے ان کو گھر سے بے دخل کر دینا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔