کیا ایک مسلمان نماز اپنی زبان میں ادا کر سکتا ہے؟ اگر وہ عربی نہیں سمجھتا ہے، اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا ہے تو کیا ایسی وہ تمام نماز اور اس کے حصوں کے بارے میں ایسا ہی کر سکتا یا صرف اس کا اطلاق قرأت پر ہوتا ہے جو قرآن مجید کی سورت کی کرنی ہوتی ہے، میں نے حال ہی میں سنا ہے کہ حنفی مسلک ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ نماز کی ادائیگی اپنی زبان میں کی جاتی جا سکے، عربی کے علاوہ ان لوگوں کے لۓ جو نو مسلم ہیں۔
نماز اپنے تمام اجزاء کے ساتھ عربی میں پڑھنا ضروری ہے دوسری زبان میں پڑھنا جائز نہیں اور اس کا بغیر سمجھے پڑھنا بھی عبادتِ مطلوبہ اور باعثِ اجر وثواب اور موجبِ برکت ہے، سمجھ کر پڑھنا ضروری نہیں، اس لۓ مذکور قسم کے اشخاص جب تک قراءت سیکھ نہ لیں اس وقت تک جو بھی تسبیح و دُعا وہ بآسانی یاد کر سکیں اسی کے ذریعہ نماز کی ادائیگی کریں اور جلد سے جلد ’’قدر ما تجوز بہ الصّلاۃ‘‘ قرأت سیکھنے کی کوشش کریں۔
فی الدر المختار: (ومنها القراءة) لقادر عليها اھ وفی حاشية ابن عابدين: (قوله ومنها القراءة) أي قراءة آية من القرآن، وهي فرض عملي في جميع ركعات النفل والوتر وفي ركعتين من الفرض اھ (1/ 446)۔