کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب دل اور شوگر کے مریض ہیں اور ان پر دیوار گرنے کی وجہ سے ان کی ریڑھ کی ہڈی بھی خراب ہے اور اکثر ان کی طبیعت خراب رہتی ہے، ان تمام بیماریوں کی وجہ سے وہ اُٹھنے، چلنے پھرنے، اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے میں کافی مشکلات کا شکار ہیں اور اکثر طور پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی صورت میں حالت اتنی خراب ہو جاتی ہے کہ نماز بہ مشکل پوری پڑھ لیتے ہیں اور اس دوران سانس لینا بھی دشورا ہو جاتا ہے، یعنی جماعت میں شرکت کرنے کی صورت میں امام صاحب کے ساتھ زیادہ دیر تک قیام وغیرہ نہیں کر سکتے ہیں، اب اس تمام صورت حال کو مدِنظر رکھ کر یہ بتائیں کہ کیا والد صاحب کے لۓ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ ان تمام صورتوں میں کس حد تک بیٹھنا جائز ہے اور کس حد تک ناجائز؟
سائل کے والد کو اگر واقعۃً کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے تکلیف ہوتی ہو یا بیماری کے بڑھ جانے کا قوی اندیشہ ہو تو معذور ہونے کی بناء پر اُن کے لۓ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا شرعاً جائز ہے، جبکہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں تکلیف ہو تو انفرادی طور پر مختصر قیام کے ساتھ بھی نماز پڑھنا جائز اور درست ہے۔
فی الدر المختار: (من تعذر عليه القيام) أي كله (لمرض) حقيقي و حده أن يلحقه بالقيام ضرر (إلی قوله) (أو) حكمي بأن (خاف زيادته أو بطء برئه بقيامه(إلی قوله) (صلى قاعدا) اھ (2/ 95)۔
وفی حاشية ابن عابدين: لكونها سنة مؤكدة أو واجبة، فبالحرج يرتفع الإثم ويرخص في تركها ولكنه يفوته الأفضل(إلی قوله) والظاهر أن المراد به العذر المانع كالمرض والشيخوخة والفلج اھ (1/ 555)۔