احکام نماز

رکوع و سجود یا درود شریف کے بعد کی دعا کا عربی میں ہونا- عربی زبان کو دیگر زبانوں پر فوقیت حاصل ہونے کی وجہ

فتوی نمبر :
65678
| تاریخ :
2008-11-17
عبادات / نماز / احکام نماز

رکوع و سجود یا درود شریف کے بعد کی دعا کا عربی میں ہونا- عربی زبان کو دیگر زبانوں پر فوقیت حاصل ہونے کی وجہ

۱۔ حنفی مذہب میں اس بات کی اجازت کیوں نہیں ہے کہ دعا نماز کے بعد سجدے کی حالت میں مانگی جائے؟ سجدے کے مکمل ہونے پر عربی زبان میں دعا کی جائےاور دعاءِ تشہد کے بارے میں کیا حکم ہے؟
۲۔ جو شخص عربی جانتا ہے وہ تو بہتر حالت میں ہونگے نسبتاً اس سے جو عربی نہیں جانتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ کا نزول عربی زبان میں ہوا ہے، اس لۓ نماز اور اس کے دوران رکوع و سجدے یا درود شریف کے بعد کی دعا وغیرہ کا عربی میں ہونا ہی صحتِ نماز کے لۓ ضروری ہے، ورنہ نماز کراہت سے خالی نہ ہوگی۔
۲۔ جبکہ قرآن کریم کے عربی زبان میں ہونے، آپ علیہ السلام کی زبان عربی زبان ہونے اور جنت میں عربی زبان کے بولے جانے کی وجہ سے عربی زبان کو دوسری زبانوں پر فوقیت حاصل ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: (ودعا) بالعربية، وحرم بغيرها اھ وفی حاشية ابن عابدين: لكن المنقول عندنا الكراهة؛ فقد قال في غرر الأفكار شرح درر البحار في هذا المحل: وكره الدعاء بالعجمية، لأن عمر نهى عن رطانة الأعاجم. اهـ. والرطانة كما في القاموس: الكلام بالأعجمية. (إلی قوله) وظاهر التعليل أن الدعاء بغير العربية خلاف الأولى، وأن الكراهة فيه تنزيهية اھ(1/ 521)۔
وفی المستدرك على الصحيحين للحاكم: عن ابن عباس، رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي والقرآن عربي وكلام أهل الجنة عربي" اھ (4/ 97)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65678کی تصدیق کریں
0     319
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات